Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر ماحول میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو دوسرے آدمی سے شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا حل بدلہ لینا نہیں بلکہ بھلا دینا ہے۔ شکایت کو بھلانا مسئلہ کو گھٹاتا ہے اور شکایت کا بدلہ لینا مسئلہ کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ مگر یہ کوئی آسان معاملہ نہیں۔ آدمی ایک کھوئی ہوئی چیز کو اسی وقت بھلا سکتا ہے جب کہ وہ اس سے بڑی چیز اپنے لیے پالے۔ محرومی کو بھلانے کے لیے ہمیشہ کوئی بڑی چیز درکار ہوتی ہے اور یہ ”بڑی چیز“ صرف آخرت ہے۔ آخرت کا عقیدہ آدمی کو وہ سب سے بڑی چیز دے دیتا ہے جس کے مقابلہ میں ہر چیز کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت کو پانے والا ہر دوسری چیز کا کھونا گوارا کر لیتا ہے۔ 31 دن کے لیے جنوری 1983 میں آندھرا پردیش میں تلگو دیسم پارٹی بر سر اقتدار آئی تا ہم 16 اگست 1984 کو گورنر مسٹر رام لال نے تلگو دیسم وزارت کو بر خاست کر دیا اور مسٹر نریندر بھاسکر راؤ سے کہا کہ وہ کانگریس سے مل کر وزارت بنائیں ۔ گورنر نے انروئے دستور یہ ہدایت کی کہ وہ 30 دن کے اندر یہ ثابت کریں کہ 293 رکنی اسمبلی میں ان کی اکثریت ہے۔ اس کے بعد ممبروں کو توڑنے کی کوشش شروع ہوئی ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک ایک ممبر کی قیمت 20 لاکھ روپے تک لگادی گئی (ہندوستان ٹائمز، 13 ستمبر 1984)۔ مگر معزول وزیر اعلی مسٹر این ٹی راما راؤ نے وزارت کی برخاستگی کے بعد اپنی پارٹی کے ممبران اسمبلی کو اپنے راما کرشنا سٹوڈیوز میں بند کر دیا۔ 30 دن گزر گئے اور مسٹر بھاسکر راؤ اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے قابل نہ ہو سکے۔ ان کی وزارت غیر قانونی ہوگئی۔ چنانچہ نئے گورنر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page