سب سے بڑی خبر
Urdu book, p. 159
By Maulana Wahiduddin Khan
جی۔ دروازہ کھولا گیا تو مذکورہ نوجوان تیسری بار مجھ سے ملنے کے لیے دروازے پر موجود تھے۔ مجھ کو دیکھتے ہی وہ مسکرا کر بولے ” آج میں آپ کو ایک خوش خبری دینے آیا ہوں“۔ اس کے بعد انھوں نے بتایا کہ میرا پروموشن ہو گیا ہے اور اب میری تنخواہ میں سو روپیہ ماہوار کا اضافہ ہو جائے گا۔ میں نے سوچا کہ آدمی کے پاس اگر کوئی اہم خبر ہو تو وہ اس کو چھپانے پر قادر نہیں ہو سکتا۔ اہم خبر کو آدمی بتا کر رہتا ہے۔ بلکہ وہ ڈھونڈتا ہے کہ کوئی ملے تا کہ وہ اس کو بتا سکے ۔ کسی نے نئی کار خریدی ہو یا نیا مکان بنایا ہو تو اس کا چر چا کیے بغیر وہ رہ نہیں سکتا۔ کسی مجلس میں اگر اس کی کار یا اس کا مکان موضوع گفتگو نہ ہو تو وہ کسی نہ کسی طرح موضوع کو بدل کر ایسے رخ پر لاتا ہے کہ وہ اپنی نئی کار اور نئے مکان کی خبر لوگوں کو دے سکے ۔ یہ انسانی فطرت ہے۔ کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی اہم خبر کو دوسروں کو سنانے کے لیے بے قرار نہ رہتا ہو۔ آج بے شمار آوازیں فضا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ہر ایک کے پاس کوئی نہ کوئی پیغام ہے جس کو وہ دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہے۔ مگر سنانے والوں کی بھیڑ میں کوئی آخرت کی خبر سنانے والا نہیں ۔ کوئی جنت اور جہنم سے آگاہ کرنے والا نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بولنے اور لکھنے والوں کے پاس آخرت کی خبر ہی نہیں۔ ہر ایک کے پاس دنیا کی کوئی نہ کوئی خبر ہے۔ آخرت کی خبر کسی کے پاس موجود ہی نہیں۔ اگر کسی کے پاس آخرت کی خبر ہوتی تو وہ اس کو سنائے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ بلکہ آخرت کی غیر معمولی اہمیت کی بنا پر اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ اس کے لیے کوئی دوسری خبر، خبر نہ ہوتی جس کو سنانے کے لیے وہ لوگوں کے سامنے کھڑا ہو۔ وہ اپنی ساری طاقت اور سارا وقت بس آخرت کی خبر سنانے میں لگا دیتا، جہنم سے ڈرانے اور جنت کی خوش خبری دینے کے سوا کوئی کام اس کو کام نظر نہ آتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader