Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 160

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر یہ معلوم ہو کہ اگلے چند لمحہ کے بعد بھونچال آنے والا ہے یا آتش فشاں پھٹنے والا ہے تو ہر آدمی اسی کا تذکرہ کرنے میں مشغول ہوگا۔ ہر دوسری بات کو بھول کر لوگ آنے والے ہولناک لمحہ پر بات کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ مگر تقریر کرنے والے تقریریں کر رہے ہیں اور مضامین لکھ رہے ہیں مگر یہ سب چیزیں قیامت کے تذکرہ سے اس طرح خالی ہوتی ہیں جیسے کہ لوگوں کو آنے والے ہولناک دن کی خبر ہی نہیں۔ آدمی اکثر اپنے گرد و پیش کے مسائل میں الجھا رہتا ہے، ذاتی یا قومی قسم کے معاشی اور سیاسی اور سماجی واقعات جن کا وہ اپنے آس پاس تجربہ کرتا ہے وہ انہیں کو واقعہ سمجھتا ہے اور انہیں کے چرچے میں مشغول رہتا ہے۔ مگر سب سے بڑا مسئلہ قیامت کا مسئلہ ہے۔ قیامت ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے، مگر وہ ہونے والے تمام واقعات میں سب سے بڑا واقعہ ہے، وہ تمام واقعات سے زیادہ اس قابل ہے کہ اس کا چرچا کیا جائے۔ کل کو جانیے ضیاء الرحمن (1981-1936) سابق صدر بنگلہ دیش ڈھاکہ سے سے چاٹگام گئے۔ وہاں وہ 30 مئی 1981 کو سرکاری ریسٹ ہاؤس میں آرام کر رہے تھے کہ رات کے وقت ان پر حملہ کر کے انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ ان کو ہلاک کرنے والا بنگلہ دیش کا ایک فوجی افسر میجر جنرل منظور تھا۔ میجر جنرل منظور نے یہ گمان کیا تھا کہ صدر ضیاء الرحمن کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد بنگلہ دیش کی حکومت پر قبضہ کر لیں گے۔ مگر ان کا اندازہ غلط نکلا فوج کے ایک دستہ کے سوا عام فوجیوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ صرف دو دن بعد 2 جون 1981 کو مخالف فوجیوں نے انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page