کل کو جانیے
Urdu book, p. 161
By Maulana Wahiduddin Khan
جنرل منظور کا جو انجام ہوا وہی اس دنیا میں ہر آدمی کا انجام ہو رہا ہے۔ کسی کا بظاہر فوج کی گولی کے ذریعہ ہوتا ہے اور کوئی فرشتوں کے ذریعہ موت کے انجام تک پہنچادیا جاتا ہے۔ مگر کوئی اس سے سبق نہیں لیتا کوئی "جنرل منظور" یہ نہیں سوچتا کہ اپنے حریف کو قتل کرنے کے اگلے ہی دن وہ بھی قتل کر دیا جائے گا۔ دوسرے کو موت کے گڑھے میں گرانے کے بعد وہ خود بھی لازمی طور پر موت کے گڑھے میں دھکیل دیا جائے گا۔ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو کسی نہ کسی دائرہ میں اقتدار دیا جاتا ہے۔ کسی کے اختیار کا دائرہ بڑا ہے اور کسی کا دائرہ چھوٹا۔ مگر عجیب بات ہے کہ ہر آدمی اپنے دائرہ میں وہی بن جاتا ہے جو دوسرا اپنے دائرہ میں بنا ہوا ہے۔ یہاں ہر شخص "جنرل منظور" ہے۔ ہر شخص دوسرے کی کاٹ میں لگا ہوا ہے۔ ہر شخص دوسرے کی نفی پر اپنا اثبات کرنا چاہتا ہے۔ ہر شخص اپنی حیثیت کا غلط اندازہ کر کے سمجھتا ہے کہ اگر اس نے دوسرے کو اس کے مقام سے ہٹا دیا تو اس کا خالی مقام اسے مل جائے گا۔ وہ بھول جاتا ہے کہ جو چیز اس کا انتظار کر رہی ہے وہ کسی کا خالی مقام نہیں بلکہ خود اس کی اپنی قبر ہے۔ ہر شخص جو آج اپنے کو کامیاب سمجھتا ہے وہ کل اپنے کو ناکام دیکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہ واقعہ ہر روز ہو رہا ہے۔ مگر کوئی بھی شخص آج کے بعد آنے والے کل کو نہیں دیکھتا۔ ہر شخص اپنے "آج" کو جاننے کا ماہر ہے، کسی کو اپنے "کل" کی خبر نہیں۔ اپنے آج کو جاننے والو، اپنے کل کو جانو۔ کیونکہ بالآخر ختم جس سے دو چار ہونے والے ہو وہ تمهارا کل ہے نہ کہ تمھارا آج۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader