اللہ اکبر
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
،گھمنڈ، ظلم اور انتقام ظاہر ہو کر ہم کو الجھا لیتا ہے اور ہم اپنے آشیانہ کو خود اپنی آنکھوں سے بکھرتا ہوا دیکھ کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ یہ مسلسل تجربات ثابت کرتے ہیں کہ ہمارے خوابوں کی دنیا موجودہ زمینی حالات میں نہیں بن سکتی۔ اس کے لیے دوسری دنیا اور دوسرے حالات درکار ہیں۔ آدمی کی تمنائیں بجائے خود ایک حقیقی انسانی طلب ہیں۔ مگر اس طلب کی تکمیل کی جگہ موت کے بعد آنے والی اگلی دنیا ہے نہ کہ موت سے پہلے کی موجودہ دنیا۔ یہی واحد چیز ہے جو ہماری دنیا کی زندگی کو بامعنی بناتی ہے۔ اس کے بعد موجودہ دنیا جدوجہد کی دنیا بن جاتی ہے اور اگلی دنیا جدوجہد کا انجام پانے کی دنیا۔ اس کے بعد آدمی اپنی وہ منزل پالیتا ہے جس کی طرف وہ مطمئن ہو کر بڑھ سکے۔ موجودہ دنیا کو منزل سمجھنے کی صورت میں آدمی بالآخر مایوسی اور انتشار ذہنی کے سوا اور کہیں نہیں پہنچتا۔ جب کہ آخرت کی دنیا کو منزل سمجھنے کا عقیدہ اس کے سامنے ابدی سکون کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں کھونے کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ وہاں وہی نظریہ صحیح ہو سکتا ہے جو کھونے میں پانے کا راز بتا رہا ہو۔ کچھ کام نہ آئے گا ایک صاحب سے بات ہو رہی تھی۔ 20 سال پہلے وہ معمولی مکینک تھے۔ اب وہ تقریباً دو درجن مشینوں کے مالک ہیں۔ ان کے کئی کارخانے چل رہے ہیں۔ میں نے ایک ملاقات میں کہا: آپ نے ماشاء اللہ اپنے کاروبار میں ترقی کی ہے۔ انھوں نے خوشی اور اعتماد کے لہجہ میں جواب دیا: اتنی کمائی کر لی ہے کہ بچے کچھ نہ کریں تب بھی وہ سوسال تک آرام سے کھاتے رہیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader