Urdu book · اللہ اکبر

کچھ کام نہ آئے گا

Urdu book, p. 171

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ایک انتہائی مثال ہے۔ تاہم موجودہ زمانہ میں ہر آدمی کا یہی حال ہو رہا ہے۔ ہر آدمی اپنے اپنے دائرہ میں یہی یقین لیے ہوئے ہے کہ اس نے اپنے معاملات کو درست کر لیا ہے۔ اسے اب کسی خطرہ کی ضرورت نہیں۔ کم از کم ’’سوسال‘‘ تک تو بالکل نہیں۔ کوئی اپنے بڑوں کو خوش کر کے مطمئن ہے۔ کسی کو یہ فخر ہے کہ اس نے اپنے قانونی کاغذات کو پکا کر لیا ہے۔ کسی کو اپنے قابلِ اعتماد ذریعہ معاش اور اپنے بینک بیلنس پر ناز ہے۔ کوئی اپنے بازوؤں کی قوت اور اپنی دادا گیری پر بھروسہ کیے ہوئے ہے۔ کسی کے پاس کچھ نہیں تو جس کے پاس ہے وہ اس سے خوشامد اور مصالحت کا تعلق قائم کر کے سمجھتا ہے کہ اس نے بھی ایک چھتری حاصل کر لی ہے، اب اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر بھونچال جب آتا ہے تو اس قسم کے تمام بھروسوں کو باطل ثابت کر دیتا ہے۔ بھونچال کے لیے پکے محل اور کچی جھونپڑیوں میں کوئی فرق نہیں۔ طاقت ور اور کمزور دونوں اس کے نزدیک یکساں ہیں۔ وہ بے سہارا لوگوں کو بھی اسی طرح تہس نہس کر دیتا ہے جس طرح ان لوگوں کو جو مضبوط سہارا پکڑے ہوئے ہیں۔ بھونچال یہ یاد دلاتا ہے کہ اس دنیا میں آدمی کس قدر بے بس ہے۔ یہ بھونچال خدا کی ایک پیشگی نشانی ہے جو بتاتی ہے کہ ہر ایک کے لیے بالآخر کیا ہونے والا ہے۔ بھونچال ایک قسم کی چھوٹی قیامت ہے جو بڑی قیامت کا پتہ دیتی ہے۔ جب ہولناک گڑگڑاہٹ لوگوں کے اوسان خطا کر دیتی ہے۔ جب مکانات تاش کے پتوں کی طرح گرنے لگتے ہیں۔ جب زمین کا نچلا حصہ اوپر آ جاتا ہے اور جو اوپر تھا وہ نیچے دفن ہو جاتا ہے۔ اس وقت انسان جان لیتا ہے کہ وہ قدرت کی طاقتوں کے آگے بالکل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page