Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

عاجز ہے۔ اس کے لیے صرف یہ مقدر ہے کہ بے بسی کے ساتھ اپنی بربادی کا تماشہ دیکھے اور اس کے مقابلہ میں کچھ نہ کر سکے۔ قیامت کا بھونچال موجودہ بھونچال سے اربوں اور کھربوں گنا زیادہ سخت ہوگا۔ اس وقت سارے سہارے ٹوٹ جائیں گے۔ ہر آدمی اپنی ہوشیاری بھول جائے گا۔ عظمت کے تمام منارے اس طرح گر چکے ہوں گے کہ ان کا کہیں وجود نہ ہوگا۔ اس دن وہی سہارے والا ہوگا جس نے موجودہ چیزوں کو بے سہارا سمجھا تھا۔ اس دن وہی کامیاب ہوگا جس نے اس وقت خدا کو اپنایا تھا جب سارے لوگ خدا کو بھول کر دوسری دوسری چھتریوں کی پناہ لیے ہوئے تھے۔ ہر طرف فریب آج کی دنیا فریب کی دنیا ہے۔ آج کے انسان کو ایسے نعرے مل گئے ہیں جن سے وہ اپنی شخصی لوٹ کی سیاست کو قومی خدمت کی سیاست ظاہر کر سکے۔ ہر آدمی ایسے الفاظ کا ماہر بنا ہوا ہے جو اس کے ظلم و فساد کو عین حق وانصاف کا روپ دے سکیں۔ ہر آدمی کو ایسے قانونی نکتے ہاتھ آگئے ہیں جو اس کے جرم کو بے گناہی کا سرٹیفیکیٹ عطا کردیں ۔ یہ دنیا پرستوں کا حال ہے۔ مگر خدا پرستوں کا معاملہ بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔ یہاں بھی لوگوں نے ایسے فضائل و مسائل کا خزانہ جمع کر رکھا ہے جو ان کی بے دینی کو دینی کمال کے خانہ میں ڈال دیں۔ جو ان کی بے عملی کو عمل کا شان دار کریڈٹ دے دیں۔ لوگوں نے ایسا خدا در یافت کر رکھا ہے جس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لوگوں کو ایسا رسول ہاتھ آگیا ہے جو صرف اس لیے آیا تھا کہ ان کی ساری بد اعمالیوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page