ہر طرف فریب
Urdu book, p. 173
By Maulana Wahiduddin Khan
کے با وجود خدا کے یہاں ان کا یقینی سفارشی بن جائے۔ لوگوں کو ایسی آخرت مل گئی ہے جہاں جنت صرف اپنے لیے ہے اور جہنم صرف دوسروں کے لیے۔ لوگوں کو ایسی نمازیں حاصل ہوگئی ہیں جن کے ساتھ کبر اور حسد جمع ہوسکتا ہے۔ لوگوں کو ایسے روزے معلوم ہوگئے ہیں جو جھوٹ اور ظلم سے فاسد نہیں ہوتے۔ لوگوں کو ایسا دن ہاتھ آ گیا ہے جو صرف بحث ومباحثہ کرنے کے لیے ہے نہ کہ عمل کرنے کے لیے۔ لوگوں کو اسلامی دعوت کے ایسے نسخے معلوم ہوگئے ہیں جو ان کی شخصی قیادت اور قومی سیاست کو اسلام کا لباس اوڑھا دیں۔ مگر جھوٹا سونا اسی وقت تک سونا ہے جب تک وہ کسوٹی پر کسا نہ گیا ہو۔ اسی طرح فریب کا یہ کاروبار بھی صرف اس وقت تک ہے جب تک کہ خدا ظاہر ہو کر اپنے انصاف کی ترازو کھڑا نہ کر دے۔ آج امتحان کی آزادی ہے۔ آج آدمی کو موقع ہے کہ جو چاہے کرے۔ مگر جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو آدمی اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔ وہ بولنا چاہے گا مگر اس کے پاس الفاظ نہ ہوں گے کہ وہ بولے۔ وہ چلنا چاہے گا مگر اس کے پاس پاؤں نہ ہوں گے کہ ان کے ذریعہ وہ بھاگ کر کہیں جا سکے۔ یہ سچائی کا دن ہوگا۔ اس دن ہر آدمی کے اوپر سے فریب کا وہ لباس اتر چکا ہوگا جس کو آج وہ پہنے ہوئے ہے۔ ہر آدمی اپنی اصل صورت میں نمایاں ہو جائے گا جو فی الواقع اس کی ہے مگر امتحان کی آزادی سے فائدہ اٹھا کر آج وہ اس کو چھپائے ہوئے ہے۔ آدمی کی یہ اصل صورت خدا کے سامنے آج بھی عیاں ہے۔ مگر آخرت کی دنیا میں وہ تمام لوگوں کے سامنے نمایاں ہو جائے گی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader