Urdu book · اللہ اکبر

ہر طرف فریب

Urdu book, p. 174

By Maulana Wahiduddin Khan

کامیابی کی فہرست سید محمد کیرلا میں پیدا ہوئے ۔ ان کی تعلیم لندن میں ہوئی ۔ ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کو دیکھ کر ان کے 80 سالہ انگریز استاد پروفیسر سٹیونس (Dr. Cleveland Stevans) نے 1957 میں کہا تھا کہ اے نوجوان شخص ، ایک دن تم یہاں اپنے ملک کے نمائندہ بن کر آؤ گے ۔ مگر میں اس وقت تم کو دیکھنے کے لیے موجود نہ ہوں گا : Young man, one of these days you will come here to represent your country. But I would not be there to see you. یہ پیشین گوئی 23 سال بعد پوری ہوئی اور سید محمد ہندوستان کے ہائی کمشنر بن کر لندن گئے۔ سید محمد نے بیرسٹری سے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انہیں بہت سے اعلیٰ عہدے ملے ۔ وہ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مندوب تھے۔ کیرلا کا بینہ میں وزیر ہوئے ۔ مائنارٹیز کمیشن کے چیئر مین مقرر ہوئے۔ وغیرہ وغیرہ۔ سید محمد کے خاص دوستوں میں ایک مسٹر خوشونت سنگھ بھی تھے۔ انھوں نے سید محمد کے بارے میں ایک مضمون لکھتے ہوئے اس کو اس پیرا گراف پر ختم کیا ہے : Seyyed's passions were politics and law. He had applied for the Congress - I ticket to fight the last Parliamentary elections. Going by his records he would have undoubtedly won it. Kerala State Congress bosses denied him the ticket. It broke Seyyed's heart and a month later the setback took his life. سید محمد کا شوق سیاست اور قانون تھا۔ انھوں نے کانگریس آئی کے ٹکٹ کے لیے درخواست دی تھی تاکہ حالیہ پارلیمینٹری الیکشن میں لڑ سکیں۔ اپنے حالات کے لحاظ سے وہ ضرور کامیاب ہوتے۔ کیرلا ریاستی کانگریس کے ذمہ داروں نے انہیں ٹکٹ دینے سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page