اللہ اکبر
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا یقیناً براہ راست ہماری آنکھوں کو دکھائی نہیں دیتا۔ مگر خدا اپنی نشانیوں کے ذریعہ یقیناً دکھائی دیتا ہے۔ اور بلا شبہ خدا کے علمی ثبوت کے لیے یہی کافی ہے۔ کائنات مشین 1965 میں دوملکوں کے درمیان جنگ ہوئی۔ ایک کے پاس کمتر ہتھیار تھے۔ دوسرے کے پاس بہتر ہتھیار۔ ایک کے وجینٹ ٹینک (Vijayant tanks) کے مقابلہ میں دوسرے کا برطانی ساخت کا پیٹن ٹینک (Patton tanks) زیادہ اعلیٰ تھا۔ ایک طرف معمولی نییٹ جہاز تھے اور دوسری طرف فرانسیسی سیبرجٹ (Sabrejet) جو زیادہ طاقت کے ساتھ وار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ پھر بھی اوّل الذکر کے مقابلہ ثانی الذکر ہار گیا۔ اس کی وجہ کیا تھی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اوّل الذکر کے ہتھیار اس کے اپنے بنائے ہوئے تھے۔ وہ ان کو استعمال کرنے کی پوری مہارت رکھتا تھا۔ جب کہ ثانی الذکر کے ہتھیار بیرونی ملکوں کے بنے ہوئے تھے۔ چنانچہ ثانی الذکر ملک کے سپاہی ان کو مہارت کے ساتھ استعمال نہ کر سکے اور ہار گئے۔ ایک جنگی تبصرہ نگار نے اس کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے : Even the most sophisticated technology of warfare is handled ultimately by men engaged in the profession of soldiering. Its use in combat depends therefore greatly on their skill, training, morale and ingenuity. The doctrine of the supremacy of the man behind the gun thus remains valid even in this age of push button wars. جنگ کی انتہائی پیچیدہ مشینری بھی آخر کار متعلقہ فوجی آدمیوں ہی کے ذریعہ چلائی جاتی ہے۔ اس لیے جنگ میں ان کا استعمال بڑی حد تک ان کی مہارت، تربیت، جرات اور تدبیر پر منحصر ہوتا ہے۔ قدیم اصول کے مطابق بندوق کا استعمال کرنے والے آدمی کی اہمیت آج بھی باقی ہے، حتیٰ کہ اس بٹن دبانے والے دور میں بھی (ٹائمس آف انڈیا، 2 فروری 1984ء)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader