Urdu book · اللہ اکبر

ہم خدا کے ملک میں ہیں

Urdu book, p. 180

By Maulana Wahiduddin Khan

کے کان میں چپکے سے کہا” میڈیم آپ اس وقت روس میں ہیں، امریکا میں نہیں ہیں۔ آدمی اپنے ملک میں اپنی مرضی کے مطابق رہ سکتا ہے۔ لیکن اگروہ کسی غیر ملک میں جائے تو وہاں اس کو دوسرے ملک کے نظام کی پابندی کرنی پڑے گی۔ اگر وہ وہاں کے نظام کی خلاف ورزی کرے تو وہ مجرم قرار پائے گا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ وسیع تر معنوں میں دنیا کا ہے۔ انسان ایک ایسی دنیا میں پیدا ہوتا ہے، جس کو اس نے خود نہیں بنایا ہے۔ یہ مکمل طور پر بنائی ہوئی دنیا ہے۔ گویا انسان یہاں اپنے ملک میں نہیں ہے بلکہ خدا کے ملک میں ہے۔ ایسی حالت میں انسان کی کامیابی کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ خدا کی سکیم کو جانے اور اس اسکیم کے مطابق اس دنیا میں رہے۔ اگر وہ یہاں خدا کی اسکیم کے خلاف رہے گا وہ باغی قرار پائے گا اور اس قابل ٹھہرے گا کہ خدا اس کو سخت سزا دے کر ہمیشہ کے لیے اپنی تمام نعمتوں سے محروم کر دے۔ دنیا میں خدا کی مرضی کے مطابق رہنے کا طریقہ کیا ہے، یہی وہ سوال ہے جس کا جواب دینے کے لیے خدا نے اپنے پیغمبر کھڑے کیے۔ پیغمبروں نے انسان کی قابل فہم زبان میں کھول کھول کر بتایا کہ انسان سے خدا کو کیا مطلوب ہے۔ اور خدا کی وہ اسکیم کیا ہے جس کی انسان کو پابندی کرنی چاہیے۔ قرآن اسی پیغمبرانہ ہدایت کا مستند مجموعہ ہے۔ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ خدا اس کو اپنے وفادار بندوں میں شمار کرے اور اس کو اپنی ابدی نعمتوں میں حصہ دار بنائے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ قرآن کو پڑھے اور اس کو اپنی زندگی کا رہنما بنا لے۔ جو شخص ایسا نہیں کرے گا اس کا انجام شدید ترشکل میں وہی ہوگا جو روس میں امریکا نوازوں کا ہوتا ہے یا امریکا میں روس نوازوں کا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page