Urdu book · اللہ اکبر

ایک موت

Urdu book, p. 181

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک موت 23 فروری 1983 کی صبح الرسالہ کے لیے بڑی درد ناک خبر لے کر آئی۔ اس دن الرسالہ کے کاتب حافظ امجد علی شاہجہانپوری کا انتقال ہو گیا۔ وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً ستر سال تھی۔ حافظ امجد علی صاحب نے الرسالہ کی کتابت کا کام اتنی دلچسپی اور لگن کے ساتھ کیا کہ "الرسالہ" اور "امجد علی صاحب" دونوں ایک دوسرے کے ہم معنی بن گئے۔ وہ دہلی کے اعلیٰ درجہ کے کاتب تھے۔ الرسالہ کے صفحات نے ان کی خوش نویسی کے جو نمونے محفوظ کیے ہیں وہ ابھی نامعلوم مدت تک باقی رہیں گے۔ مگر لکھنے والے کا فن لکھنے والے کے ساتھ ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ الرسالہ کی ہر اشاعت سب سے پہلے امجد علی صاحب کی نظر سے گزرتی تھی تو یہ بات بالکل صحیح ہوگی۔ کیونکہ وہ الرسالہ کو صرف" لکھتے" نہیں تھے بلکہ وہ اس کو "پڑھتے" بھی تھے۔ الرسالہ کے مضامین جب انہیں کتابت کے لیے دیے جاتے تو پہلے وہ ان کا مطالعہ کرتے۔ اس کے بعد ان کو لکھنا شروع کرتے۔ وہ الرسالہ کے صرف کاتب نہیں تھے، بلکہ وہ اس کے سب سے پہلے قاری بھی تھے۔ موت کی خبر ملنے کے بعد 23 فروری کی دوپہر کو جب میں ان کے گھر پہنچا تو ان کا مردہ جسم ایک چار پائی پر لٹایا ہوا تھا۔ میں دیر تک تاثرات کے طوفان میں انہیں دیکھتا رہا۔ وہی معصوم چہرہ تھا، مگر اب وہ خاموش ہو چکا تھا۔ بظاہر وہی آنکھیں تھیں، مگر اب وہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکی تھیں۔ ہاتھ وہی تھا مگر اب وہ قلم پکڑنے کی طاقت سے محروم تھا۔ 23 فروری کو نماز ظہر کے بعد جنازہ اٹھا۔ لوگ حافظ امجد علی کا جسم کاندھوں پر اٹھائے قبرستان کی طرف جا رہے تھے اور میرے ذہن میں ایک پوری تصویر جاگ رہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page