اللہ اکبر
Urdu book, p. 182
By Maulana Wahiduddin Khan
تھی جس میں انسان اپنے آغاز سے انجام کی طرف جاتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ انسان کی کہانی کیسے عجیب طور پر اس دنیا میں شروع ہوتی ہے۔ اور کیسے عجیب طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ 23 فروری سے پہلے امجد علی صاحب سے میرا ہر روز ساتھ تھا۔ 23 فروری کو وہ اچانک دوسری دنیا میں چلے گئے۔ جب مجھے اس کا خیال آتا ہے تو میں سوچنے لگتا ہوں کہ ہماری آج کی دنیا اور ہماری کل کی دنیا میں کتنا کم فاصلہ ہے۔ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کا ایک قدم اگر اس دنیا میں ہے تو اس کا دوسرا قدم اُس دنیا میں۔ زندگی کا انجام ماستی وینکا ٹیسا آئنگر (1986-1891) کنڑ زبان کے مشہور مصنف ہیں۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد وہ میسورسول سروس میں شامل ہوئے۔ اپنی اعلیٰ خدمات کی بنا پر انہیں ریاست میسور کا وزیر ہونا چاہیے تھا۔ مگر ان کے ساتھ نا انصافی کی گئی۔ چنانچہ وہ بدل ہو کر وقت سے پہلے ریٹائر ہو گئے۔ ملازمت سے الگ ہو کر انھوں نے کہانیاں اور ناول لکھنا شروع کیا۔ اس میدان میں انھیں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی ۔ آج وہ تقریباً ڈیڑھ سو کتابوں کے مصنف ہیں ۔ ان کی کتاب چکا ویرا را جندر (Chikka Veera Rajendra) پر حکومت ہند نے ان کو گیان پیٹھ کا خطاب اور ڈیڑھ لاکھ روپیہ بطور انعام دیا ہے۔ مسٹروی سری دھر موصوف سے ملے اور ان سے ایک انٹرویو (ٹائمز آف انڈیا 12 اگست 1984) لیا۔ مسٹر ماستی اگر چہ اپنی تمام کتابوں کو ادبی شاہکار سمجھتے ہیں۔ مگر حکومت کے اعلیٰ انعام پر وہ خوش نہ ہو سکے۔ انھوں نے کہا: I am too old to be happy

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader