Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی 94 سال کی عمر کو پہنچ کر میں اتنا زیادہ بوڑھا ہو چکا ہوں کہ کوئی خوشی میرے لیے خوشی نہیں۔ مسٹر ماستی کی پہلی کہانی 1912 میں شائع ہوئی تھی۔ اس لحاظ سے انہیں اپنے ادبی کمالات کے اعتراف کے لیے 70 سال انتظار کرنا پڑا۔ مگر لمبی مدت کے بعد جب انہیں عزت اور انعام ملا تو وہ وقت تھا جب کہ بڑھاپے نے ان کے چہرے پر جھریوں کی مالا پہنا دی تھی۔ مسٹر ماستی کی کہانی موجودہ دنیا میں ہر شخص کی کہانی ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کا یہ قصہ ہے کہ وہ محنت کرتا ہے۔ اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے۔ بالآخر "ستر سال" کی محنت کے بعد وہ اس قابل ہوتا ہے کہ اس کو دنیا میں عزت اور انعام ملے۔ مگر اس وقت وہ بوڑھا ہو چکا ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ کسی بھی صبح یا شام موت آ جاتی ہے اور اس کو مجبور کرتی ہے کہ اپنی عمر بھر کی کمائی کو چھوڑ کر ایسی دنیا کی طرف چلا جائے جس کے لیے اس نے کچھ نہیں کیا تھا۔ کہاں سے کہاں 31 اکتوبر 1984 کو صبح سوا نو بجے کا وقت تھا۔ نئی دہلی میں وزیر اعظم ہند کی سرکاری رہائش گاہ میں حسب معمول پولیس اور اسٹاف کی سرگرمیاں اپنے شباب پر تھیں۔ پیشگی اپائنٹمنٹ کے مطابق وسیع اور شاندار لان میں پیڑ اسٹینوف (2004-1921) اپنی پارٹی کے ساتھ آ چکے تھے۔ وہ وزیر اعظم اندرا گاندھی (1984-1917) پر ایک فلم تیار کر رہے تھے۔ وزیر اعظم اپنے وقت پر اپنے کمرہ سے برآمد ہوئیں۔ وہ لان میں داخل ہونے ہی والی تھیں کہ گولیوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ مسز اندرا گاندھی کی حفاظتی پولیس کے دو مسلح جوانوں نے اچانک ان پر حملہ کر دیا۔ ایک پستول سے فائر کیے، دوسرے نے اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page