Urdu book · اللہ اکبر

کہاں سے کہاں

Urdu book, p. 184

By Maulana Wahiduddin Khan

اسٹِن گن کی 20 گولیاں ان کے اوپر خالی کردیں۔ خون میں لت پت اندرا گاندھی کوئی آخری کلمہ نہ بول سکیں۔ وہ ”بے ہوش“ حالت میں اسپتال لے جائی گئیں۔ صرف اس لیے کہ ڈاکٹران کی طبعی موت کا آخری اعلان کرسکیں۔ اس سلسلہ میں اخبارات میں جو رپورٹیں شائع ہوئی ہیں، ان میں سب سے زیادہ عبرت انگیز مسٹر پیٹر اسٹینوف کا واقعہ تھا: Peter Ustinov, world renowned actor, director, and writer, was sitting in the lawn at Mrs Indira Gandhi's residence, waiting, to interview her ("I wanted to ask her how as a single child she came to terms with her loneliness") when he heard the 'sound of death'. مسٹر اسٹینوف جو عالمی شہرت رکھنے والے ایکٹر، ڈائریکٹر اور رائٹر ہیں، وہ مسز اندرا گاندھی کی رہائش گاہ کے لان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ ان سے انٹرویو کے منتظر تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں ان سے یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ واحد اولاد ہونے کے اعتبار سے انھوں نے کس طرح اپنے اکیلے پن کے ساتھ نباہ کیا۔ عین اسی وقت اسٹینوف نے موت کی آواز سنی (ہندوستان ٹائمز، 1 نومبر 1984)۔ راقم الحروف نے جب یہ رپورٹ پڑھی تو معاً مجھ کو یہ خیال آیا کہ اگر الفاظ کے اندر تھوڑی سی تبدیلی کردی جائے تو غالباً یہ اہم ترین سوال تھا جو اس نازک لمحہ میں مسز اندرا گاندھی سے پوچھا جاسکتا تھا۔ الفاظ میں معمولی تبدیلی کے بعد وہ سوال یہ تھا: اب تک آپ 700 ملین انسانوں کے ملک کی محبوب وزیراعظم تھیں۔ اگلے لمحہ آپ کا کیا حال ہوگا جب کہ آپ اپنے کو ایک ایسی دنیا میں پائیں گی جہاں آپ بالکل تنہا اور بے یارومددگار ہوں گی۔ کیسا عجیب ہے وہ پانا جس کا انجام کھونے کے سوا اور کچھ نہ ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page