اللہ اکبر
Urdu book, p. 185
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ گونگے شاہکاروں کا عجائب خانہ نہیں تمام سفروں میں ٹرین کا سفر سب سے زیادہ تجربات سے بھر اہوا ہوتا ہے۔ انسانی قافلوں کو لیے ہوئے تیز رفتار ایکسپریس دوڑی چلی جارہی ہے۔ گاڑی کے دونوں طرف قدرت کے مناظر مسلسل ہمارا ساتھ دے رہے ہیں۔ اس طرح ٹرین گویا زندگی کے بڑے سفر کی علامت بن گئی ہے جو نشانیوں سے بھری ہوئی ایک دنیا میں انسان طے کر رہا ہے۔ مگر جس طرح ٹرین کے مسافر اطراف کے مناظر سے بے خبر ہو کر اپنی ذاتی دلچسپیوں میں گم رہتے ہیں۔ اسی طرح انسان موجودہ دنیا میں اپنی زندگی کے دن پورے کر رہا ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ خدا کی بکھری ہوئی نشانیوں پر غور کرے۔ سورج اپنے روشن چہرہ کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور انسان کے اوپر اس طرح چمکتا ہے جیسے وہ کوئی پیغام سنانا چاہتا ہو۔ مگر وہ کچھ کہنے سے پہلے غروب ہو جاتا ہے۔ درخت اپنی ہری بھری شاخیں نکالتے ہیں، دریا اپنی موجوں کے ساتھ رواں ہوتا ہے۔ یہ سب بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ مگر انسان ان کے پاس سے گزر جاتا ہے۔ بغیر اس کے کہ ان کا کوئی بول اس کے کان میں پڑا ہو۔ آسمان کی بلندیاں، زمین کی رعنائیاں سب ایک عظیم" اجتماع" کے شرکاء معلوم ہوتے ہیں۔ مگر ان میں سے ہر ایک خاموش کھڑا ہوا ہے۔ وہ انسان سے ہم کلام نہیں ہوتا۔ یہ عظیم کائنات کیا گونگے شاہکاروں کا عجائب خانہ ہے۔ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس خدا کا ایک پیغام ہے اور اس کو وہ ابدی زبان میں نشر کر رہا ہے۔ مگر انسان دوسری آوازوں میں اتنا کھویا ہوا ہے کہ اس کو کائنات کا خاموش کلام سنائی نہیں دیتا۔ ایک سفر میں ہم ایک درمیانی اسٹیشن پر نماز پڑھنے کے لیے اترے۔ اسٹیشن کے آدمیوں سے پوچھا کہ "پچھم کس طرف ہے۔" مگر کسی کے پاس اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader