Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 186

By Maulana Wahiduddin Khan

سادہ سے سوال کا جواب نہ تھا۔ میں نے سوچا ”سورج ایک روشن ترین حقیقت کی حیثیت سے روزانہ ان کے اوپر نکلتا ہے اور ڈوبتا ہے۔ مگر لوگ اپنے آپ میں اتنا گم ہیں کہ ان کو مشرق و مغرب کا پتہ نہیں۔ پھر وہ لطیف پیغام جو سورج اور اس کے کائناتی ساتھی اپنی خاموش زبان میں نشر کر رہے ہیں ان سے کیسے کوئی باخبر ہو سکتا ہے۔“ ہماری ٹرین ایک اسٹیشن پر رکی۔ میں باہر آ کر پلیٹ فارم پر کھڑا ہو گیا۔ سورج ابھی ابھی غروب ہوا تھا۔ ہرے بھرے درخت، ان کے پیچھے سرخی ملی ہوئی روشنی اور اس کے اوپر پھیلے ہوئے بادل، عجیب آفاقی حسن کا منظر پیدا کر رہے تھے۔ ”ان میں یہ حسن ان کی بلندی نے پیدا کیا ہے،“ میں نے سوچا ”مگر انسان اس بلندی تک جانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ وہ اس سطح پر نہیں جیتا جس سطح پر درخت جی رہے ہیں۔ وہ وہاں بسیر انہیں لیتا جہاں روشنی اور بادل بسیرا لیے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس، وہ سطحی مفادات میں جیتا ہے۔ وہ جھوٹی دوستی اور جھوٹی دشمنی میں سانس لیتا ہے۔ کائنات کا ہم سفر بننے کے بجائے اپنے آپ کو وہ اپنی ذات کے خول میں بند کر لیتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں جنتی فضائیں اس کا انتظار کر رہی ہیں۔ وہاں وہ اپنے آپ کو دوزخ کے ماحول میں ڈال دیتا ہے۔ انسانی دنیا کے بگاڑ کی ساری وجہ یہی ہے۔ اگر وہ بلند سطح پر جینے لگے تو اس کی زندگی میں بھی وہی حسن آجائے جو قدرت کے حسین مناظر میں دکھائی دیتا ہے (16 مارچ 1979)۔ زیادہ نازک ایک مسلم نوجوان نے جدید تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اس کو باہر کے ایک ملک میں کام ملا وہ اور اس کے لیے روانہ ہو گیا۔ اس کے ماں باپ اس کو رخصت کرنے کے لیے ہوائی اڈہ پر آئے۔ نوجوان کے مشرقی باپ نے آخری وقت میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page