زیادہ نازک
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
نصیحت کرتے ہوئے کہا: دیکھو بیٹے، جب ہوائی جہاز کے اندر بیٹھنا تو اپنے چاروں طرف آیتہ الکریمی کا گھیرابنالینا۔ اور درود شریف پڑھتے رہنا۔ یہ سن کر ایک شخص نے کہا: آپ بیٹے کو اس قسم کی نصیحت کیوں کر رہے ہیں۔ بزرگ بولے: اس لیے یہ ہوائی سواری ہے۔ راستہ میں ذراسی بھی کوئی بات پیش آئے تو کیا سے کیا ہو جائے۔ ”آپ کو شاید معلوم نہیں کہ ہم میں سے ہر شخص اس سے زیادہ خطرناک ہوائی سواری پر بیٹھا ہوا ہے۔“ آدمی نے دوبارہ کہا ”یہ زمین جس پر ہم آپ ہیں یہ ہوائی جہاز سے بھی زیادہ نازک سواری ہے۔ ہماری زمین کسی ٹھوس چیز پر رکھی ہوئی نہیں ہے بلکہ اتھاہ خلا میں معلق ہے۔ وہ ہوائی جہاز سے کہیں زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ دہر حرکت کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ اپنے محور پر 20 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔ دوسری طرف وہ اپنے مدار پر 15 سیکنڈ فی میل کی رفتار سے دوڑ رہی ہے۔ ہوائی جہاز تو درمیانی مقامات پر اترتے ہیں۔ مگر زمین کا تیز رفتار سفر بغیر کے ہوئے مسلسل جاری ہے۔“ اس قسم کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد مذکورہ شخص نے کہا۔ ”اگر آپ کو اپنے اس زمینی سفر کا واقعی احساس ہو تو آپ ہر وقت آیتہ الکریمی اور درود شریف پڑھتے رہیں۔ آپ کے اوپر لرزہ طاری ہو جائے۔ ہوائی سفر سے کہیں زیادہ آپ کو اپنے زمینی سفر کا فکر لاحق رہنے لگے۔“ لوگ انسانی واقعات سے متاثر ہوتے ہیں، وہ خدائی واقعات سے متاثر ہونا نہیں جانتے۔ کوئی شخص کرتب کے زور سے اپنے آپ کو اس طرح دکھائے کہ اس کا پاؤں چھت پر ہو اور اس کا سر نیچے کی طرف لٹکا ہوا ہو تو بے شمار لوگ اس عجیب واقعہ کو دیکھنے کے لیے جمع ہو جائیں گے۔ مگر لوگوں کی یاد نہیں کہ وہ خود اسی قسم کے عجیب تر واقعہ کی مثال ہیں۔ کیونکہ ہم میں سے ہر شخص کا یہ حال ہے کہ وہ زمین کی سطح پر لٹکا ہوا ہے۔ زمین گول

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader