اللہ اکبر
Urdu book, p. 191
By Maulana Wahiduddin Khan
سریلے نغمے بکھیرنے والی چڑیاں ہوں، کیا اس کے پاس حق کا اعلان کرنے کے لیے زبان نہیں۔ قرآن اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ کائنات کی یہ خاموشی اس لیے ہے کہ خدا نے اس کو قیامت کے آنے تک خاموش رہنے کا حکم دے رکھا ہے، جیسے ہی صور پھونکا جائے گا۔ تمام زبانوں کی مہریں ٹوٹ جائیں گی۔ اس وقت ساری کائنات ایک عظیم الشان ٹیپ ریکارڈربن جائے گی اور پھر خدا کے گواہ کی حیثیت سے وہ سب کچھ بتائے گی جو حق اور عدل کے مطابق اسے بتانا چاہیے۔ اس وقت لوگوں کو معلوم ہوگا کہ جس کائنات کے پاس رات کو دن بنا دینے والا سورج تھا اس کے پاس یہ بھی انتظام تھا کہ تاریکی میں چھپے ہوئے اعمال کو اجالے میں لا سکے۔ کیسی عجیب محرومی آپ کسی شخص کو ایک ڈالر دیں اور اس سے کہیں کہ آگے اسی قسم کے ایک کرور سکے پڑے ہوئے ہیں۔ اگر تم تیزی سے جاؤ تو اس پورے ذخیرہ کو حاصل کر سکتے ہو۔ ایسا آدمی ڈالر دیکھ کر کیا کرے گا۔ وہ ایک کو بھول کر ایک کرور کی طرف دوڑ پڑے گا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ دنیا اور آخرت کا ہے۔ موجودہ دنیا آخرت کا تعارف ہے۔ یہاں آدمی ان نعمتوں اور لذتوں کی ابتدائی پہچان حاصل کرتا ہے جس کو خدا نے کامل طور پر آخرت میں مہیا کر رکھا ہے۔ یہ اس لیے ہے تا کہ آدمی جز ء سے کل کو سمجھے۔ وہ قطرہ کو دیکھ کر سمندر کا اندازہ کرے۔ اگر آدمی کو دنیا کی صحیح معرفت حاصل ہو تو اس کے لیے دنیا مذکورہ ایک ڈالر کی مانند ہو جائے گی۔ وہ چھوٹی لذت کو چھوڑ کر بڑی لذت کی طرف بھاگے گا۔ وہ دنیا کو بھول کر آخرت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader