Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 192

By Maulana Wahiduddin Khan

کی طرف دوڑ پڑے گا۔ اس کے برعکس، جو شخص دنیا کی صحیح نوعیت کو نہ سمجھے وہ موجودہ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے گا۔ وہ آخرت کو بھول کر اسی دنیا کی چیزوں میں ہمہ تن مشغول ہو جائے گا۔ سورج اس لیے ہے کہ وہ آخرت کی روشنیوں سے بھری زندگی سے انسان کو متعارف کرے۔ مگر انسان سورج کو دیکھ کر یہ کرتا ہے کہ وہ خود سورج ہی کو اپنا معبود بنا لیتا ہے۔ پھولوں اور درختوں کا حسن اس لیے ہے کہ وہ آدمی کو آخرت کے حسن کی یاد دلائے۔ مگر انسان پھولوں اور درختوں کو آخری چیز سمجھ کر انہیں کے درمیان اپنی مستقل جنت بنانے لگتا ہے۔ دنیا کی لذتیں اس لیے ہیں کہ انسان کو ہمہ تن آخرت کا مشتاق بنادیں مگر انسان انہیں لذتوں میں ایسا کھوتا ہے کہ اس کو آخرت کی یاد بھی نہیں آتی۔ جو شخص موجودہ دنیا کی دل فریبیوں میں گم ہو جائے اس نے اپنی آخرت کو کھودیا۔ ایسا شخص آخرت میں پہنچے گا تو وہاں کی ابدی نعمتوں کو دیکھ کر اس کا یہ حال ہوگا گویا اس کا سینہ حسرت و یاس کا قبرستان بن چکا ہے۔ وہ کہے گا کہ میں بھی کیسا نادان تھا۔ میں نے جھوٹے عیش کی خاطر حقیقی عیش کو کھودیا۔ میں نے جھوٹی لذت کے پیچھے حقیقی لذت گنوا دی ۔ میں نے جھوٹی آزادی سے فریب کھا کر اپنے آپ کو حقیقی آزادی سے محروم کر لیا۔ سب چلے گئے فِیبیَن سوشلزم (Fabian Socialism) ایک سو سال پہلے انگلینڈ میں وجود میں آئی۔ برنا ڈشا (1950-1856) اور دوسرے بہت سے دانشور اس سے وابستہ تھے۔ فِیبیَن کا لفظ ایک رومی جنرل (Fabius Maximus) کے نام سے لیا گیا تھا۔ یہ لوگ غریبی اور جہالت کے خاتمہ پر زور دیتے تھے اور جبر کے بغیر سوشلزم لانے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page