Urdu book · اللہ اکبر

واں منٹ

Urdu book, p. 194

By Maulana Wahiduddin Khan

21 واں منٹ موجودہ دنیا میں انسان بظاہر آزاد ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے، کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ اس صورت حال نے انسان کو غفلت میں ڈال دیا ہے۔ ہر آدمی بے خوف بنا ہوا ہے۔ ہر آدمی وہ سب کرنا چاہتا ہے جس کو کرنے کے لیے اس کا دل کہے۔ مگر یہ صورت حال سراسر وقتی ہے۔ آدمی کے پاس صرف ایک محدود مدت ہے۔ اس خاص مدت کے اندر ہی وہ سرکشی کر سکتا ہے۔ اس مدت کے ختم ہوتے ہی اس کا مالک اسے پکڑ لے گا۔ اس کے بعد وہ مجبور ہوگا کہ اپنی سرکشی کا انجام ابدی طور پر بھگتتارہے۔ ہوائی جہاز کو اڑانے کے لیے دو پائلٹ ہوتے ہیں۔ 21 جولائی 1983 کو یہ واقعہ ہوا کہ ایک ہوائی جہاز اٹلانٹک سمندر کے اوپر اڑ رہا تھا۔ عین پرواز کی حالت میں اس کے دونوں پائلٹ (ہوا باز) سو گئے اور مسلسل 20 منٹ تک سوتے رہے۔ وہ صرف اس وقت بیدار ہوئے جب کہ پائلٹ کیبن میں ایک خاص طرح کا الا رم بجنا شروع ہو گیا (ہندوستان ٹائمس، 22 جولائی 1983)۔ یہ ہوائی جہاز کسی اتفاقی سبب سے اپنے روانگی کے مقام پر 12 گھنٹے لیٹ ہو گیا تھا۔ اس غیر معمولی حادثہ کی وجہ سے پائلٹ بے حد تھکے ہوئے تھے۔ جب انھوں نے ہوائی جہاز کو اڑایا تو اس کے انجن کو انھوں نے ایک خاص رفتار پر سٹ کر دیا۔ اب ہوائی جہاز ایک بندھی ہوئی رفتار پر اڑنے لگا۔ اس دوران میں تھکے ہوئے ہوا بازوں کی آنکھ بند ہوگئی۔ اور وہ مسلسل 20 منٹ تک سوتے رہے۔ یہاں تک کہ کنٹرول کا نظام بگڑ گیا اور ہوائی جہاز کی رفتار غیر معمولی تیز ہوگئی۔ اس کے بعد مشینی نظام کے تحت جہاز کا مخصوص الارم بجنے لگا۔ الا رم کی وجہ سے پائلٹ جاگ اٹھے اور فوراً انجن کو سنبھال لیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page