اللہ اکبر
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
فارن بورو (انگلینڈ) کے ہوائی جنرل (Feed back) میں ایک ہوا باز نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں یہ سوچ کر کانپ اٹھتا ہوں کہ کیا کچھ ہو سکتا تھا: I Shudder to think what could have happened. موجودہ زندگی کو اگر ”20“ منٹ کا لمحہ فرض کریں اور اس کے بعد 21 ویں منٹ کو آخرت میں داخلہ کے ہم معنی قرار دیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ قدرت نے انسان کو صرف 20 منٹ تک غلطی کرنے کی اجازت دی ہے، اگر وہ آخروقت تک ہوشیار نہ ہو تو قدرت اس کو 21 ویں منٹ میں غلطی کرنے کی اجازت نہ دے گی۔ 20 منٹ کے بعد اس کے لیے یا تو اپنی اصلاح کر لینا ہے یا موت کی گرفتاری۔ آرزوؤں کی دنیا جنت کا انکار اپنے آپ کا انکار ہے۔ جو شخص جنت کو نہیں مانتا وہ خود اپنی نفی کر رہا ہے ۔ جو شخص جنت کو مانتا ہے مگر اس کے لیے عمل نہیں کرتا وہ ایسا خریدار ہے جو ایک چیز خریدنا چاہتا ہے۔ مگر اس کی قیمت دینے کے لیے تیار نہیں۔ ہر انسان سب سے زیادہ کیا چاہتا ہے ۔ ہر انسان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ وہ اپنے خوابوں کی دنیا کو پا سکے ۔ وہ ابدی طور پر جیتا رہے۔ وہ اپنی تمام آرزوؤں کی تکمیل کر سکے وہ ایسی زندگی کا مالک بنے جو ہر قسم کی محدودیت (Limitations) اور ناخوشگواری (Disadvantage) سے خالی ہو۔ یہ آدمی کی سب سے بڑی تمنا ہے۔ ہر آدمی اپنی اس تمنا کی تکمیل کے لیے دوڑ رہا ہے۔ مگر کوئی بھی آدمی اپنی اس تمنا کو پورا نہیں کر پاتا۔ آدمی اپنی صحت بناتا ہے مگر بہت جلد اس کی صحت کسی حادثہ یا بڑھاپے کا شکار ہو جاتی ہے۔ آدمی دولت جمع کرتا ہے مگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader