Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

دولت اس کے قلب و دماغ کو سکون نہیں دیتی۔ وہ اقتدار پر قبضہ کرتا ہے مگر اقتدار صرف اس کے مسائل میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ وہ عیش و عشرت کے سامان اکٹھا کرتا ہے مگر جلد ہی وہ اکتاہٹ (Boredom) کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہر آدمی اپنے لیے ایک جنت کی تعمیر میں لگا ہوا ہے۔ مگر وہ اپنی جنت بنا نہیں پاتا کہ اس کی موت آ جاتی ہے۔ وہ اپنی تمام آرزوؤں اور تمناؤں کو لیے ہوئے دنیا سے چلا جاتا ہے۔ آدمی موت کے بعد کہاں جاتا ہے۔ وہ وہاں جاتا ہے جہاں اس کے خوابوں کی جنت بنی ہوئی ہے۔ مگر یہ جنت اس شخص کو ملتی ہے جس نے موت سے پہلے والی زندگی میں اس کی قیمت ادا کی ہو۔ جو شخص موجودہ دنیا میں جنت کی قیمت ادا نہیں کرتا وہ گویا اسی چیز کی محرومی کا خطرہ مول لے رہا ہے جس کو وہ سب سے زیادہ پانا چاہتا ہے۔ جنت ہماری آرزوؤں کا محل ہے۔ مگر جنت صرف اس شخص کے حصہ میں آتی ہے جس نے اس کو آخرت میں تعمیر کیا ہو۔ جو شخص اپنی جنت موجودہ دنیا میں تعمیر کرے اس کے لیے ابدی محرومی کے سوا کچھ اور نہیں۔ کیسی عجیب ہے وہ محرومی جب کہ آدمی عین اسی چیز سے ابدی طور پر محروم ہو جائے جس کے لیے وہ ساری عمر سب سے زیادہ آرزومند بنا ہوا تھا۔ ہر چیز میں سبق خواجہ حسن نظامی (1955-1878) کا ایک مضمون ہے ”مچھر کی کہانی“ خواجہ صاحب نے مچھر سے شکایت کی کہ تم اتنا کیوں پریشان کر رہے ہو۔ ہم کو سونے کیوں نہیں دیتے۔ مچھر نے جواب دیا ” سونے اور ہمیشہ سونے کا موقع ابھی نہیں آیا ہے۔ جب آئے گا تو بے فکر ہو کر سونا۔ ابھی تو ہوشیار رہنے اور کچھ کام کرنے کا وقت ہے۔“ اگر نصیحت لینے کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page