ہر چیز میں سبق
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
ذہن ہو تو مچھر کی بھنبھناہٹ میں بھی آدمی کو زندگی کا پیغام مل جاتا ہے۔ اور اگر نصیحت لینے کا ذہن نہ ہو تو بم دھماکے اور ٹینکوں کی گڑ گڑاہٹ بھی جمود کو توڑنے کے لیے نا کافی ہیں۔ ایسے لوگوں کو قیامت کا طوفان ہی بیدار کر سکتا ہے۔ مگر افسوس کہ قیامت کے طوفان سے بیدار ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ وہ بدلہ پانے کا وقت ہو گا نہ کہ عمل کرنے کا۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ ۔ جنتی وہ ہے جو اللہ کے پاس قلبِ سلیم لے کر آئے (26:89)۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ ۔ اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین کی سمجھ دے دیتا ہے: مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْراً يَُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 71)۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی سب بڑی نعمت یہ ہے کہ آدمی کا ذہن کھلا ہوا ہو۔ وہ حق کو اس کی اصل شکل میں دیکھ سکے۔ وہ نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر رائے قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایسے آدمی کے سامنے جب کوئی سچائی یا کوئی سبق کی بات آتی ہے تو اس کو سمجھنے میں اسے دیر نہیں لگتی۔ وہ اس کو فوراً اپالیتا ہے اور اپنی زندگی میں اس کو شامل کر لیتا ہے۔ دنیا میں ہر طرف اللہ کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں، کہیں جمادات خاموش زبان میں کسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کہیں "مچھر" اپنی زبان میں کوئی پیغام دیتا ہے۔ کہیں انسانوں کے درمیان کوئی واقعہ ہوتا ہے اور اس میں ایک چھپا ہوا سبق موجود ہوتا ہے۔ کبھی کوئی اللہ کا بندہ کھلی ہوئی نصیحت کی زبان میں کسی امر حق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ان تمام مواقع پر وہی شخص سچائی کو پائے گا جس نے اپنا سینہ سچائی کے لیے کھلا رکھا ہو۔ اگر آدمی کے اندر سبق لینے اور بات کو پکڑنے کا مزاج نہ ہو تو کوئی بھی چیز اسے فائدہ نہیں دے سکتی۔ کھلے ذہن کا آدمی "مچھر" سے سبق لے سکتا ہے۔ اور جس نے اپنے ذہن کی کھڑکیاں بند کرلی ہوں اس کے لیے خدا کی کتاب اور رسول کا کلام بھی ہدایت کو پانے کے لیے نا کافی ہے۔ سب سے بڑی چیز سبق لینے کا مزاج ہے۔ جس شخص

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader