Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 198

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اندر یہ مزاج پیدا ہو جائے اس کے لیے خدا کی ساری دنیا ایک زندہ کتاب بن جائے گی۔ اور جو اس مزاج سے محروم ہو وہ ایک قسم کا جانور ہے جو سب کچھ دیکھنے اور سننے کے بعد بھی جانتا نہ کہ کیا دیکھا اور کیا سنا۔ خرچ سے اضافہ مسٹر رام رتن کپلا (پیدائش 1918) نے 1937 میں پندرہ روپیہ ماہوار کی ایک ملازمت سے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ اب دہلی میں نرائنا انڈسٹریل ایریا میں ان کی فیکٹری ہے اور آصف علی روڈ پر بہت بڑا شوروم ہے۔ انھوں نے اپنے ابتدائی دور کا ایک واقعہ اس طرح بتایا۔ یہ 1945ء کی بات ہے جب کہ میں ایک میکینک کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ میں نے کافی محنت سے کام کیا اور دھیرے دھیرے 25 ہزار روپے بینک میں جمع کر لیے۔ میں بہت خوش تھا کہ میں نے کارنامہ انجام دیا ہے۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ راولپنڈی کے ایک بزرگ "خواجہ صاحب" انہی دنوں میرے پاس آئے۔ ہمارے ان کے درمیان بہت پرانے مراسم تھے۔ میں ان کی بہت عزت کرتا تھا۔ انھوں نے مجھ سے میرے کام کے بارے میں پوچھا۔ میں نے فخر کے ساتھ انہیں بتایا کہ میں نے 25 ہزار روپیہ بچا لیا ہے جو بنک میں جمع ہے۔ مجھے امید تھی کہ وہ مجھ کو شاباشی دیں گے۔ اس کے برعکس، انھوں نے مجھ کو لعنت ملامت کی اور کہا کہ تم نے اپنا وقت خراب کیا۔ تم کو شرم آنی چاہیے کہ تمہارے پاس 25 ہزار روپیہ بے کار پڑا ہوا ہے، صرف اس لیے کہ بنک کا سود ملتا رہے۔ اگر تم یہ بتاتے کہ میرے اوپر بنک کا قرض ہے تو البتہ مجھے خوشی ہوتی۔ تم فوراً بمبئی جاؤ۔ کلکتہ جاؤ۔ وہاں جا کر کاروبار دیکھو، ایجنسی لو، روپیہ کو کام میں لاؤ۔ شری رام رتن کپلا نے بتایا کہ اس کے بعد میں 1946-1945 میں بمبئی گیا۔ وہاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page