اللہ اکبر
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
حکومت کا خیال ہے کہ اس گھر کو ایک ایسے مقام کی حیثیت سے باقی رکھا جانا چاہیے جہاں لوگ آئیں اور اس خاتون کو خراج عقیدت پیش کریں جو دنیا کی سب سے زیادہ طاقت ور خاتون تھیں اور یہاں ایک شہید کی حیثیت سے مریں۔ مسز اندرا گاندھی کی زندگی کے دو رخ ہیں۔ ایک ان کا ہندوستان کا وزیر اعظم ہونا۔ دوسرا ان کا بے یارو مددگار انسان کی حیثیت سے مارا جانا۔ دونوں کو ملا کر دیکھیے تو مسز اندرا گاندھی کی زندگی انسان کے کمال عجز کی داستان سنا رہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں ایک وزیر اعظم بھی اتنا ہی کمزور ہے۔ جتنا ایک معمولی انسان ۔ مگر جن لوگوں نے مسز گاندھی کے پہلے رخ کو ان کے دوسرے رخ سے الگ کر کے دیکھا ان کے لیے یہ واقعہ بالکل الٹے مفہوم کا حامل بن گیا۔ کیسی عجیب بات ہے۔ جو واقعہ انسانی عجز کا سبق دے رہا ہے ، اس سے نادان لوگ انسانی کبریائی کا سبق لے رہے ہیں۔ جو واقعہ انسان کے لیے بے طاقت ہونے کا ثبوت ہے اس کو اس بات کی یادگار بنایا جا رہا ہے کہ انسان کس قدر طاقت ور ہے۔ یہ سونے والے حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے نہیں دیکھا کہ جہنم جیسی چیز سے بھاگنے والا سو گیا ہو اور میں نے نہیں دیکھا کہ جنت جیسی چیز کو چاہنے والا سو گیا ہو: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ النَّارِ نَارٌ هَارِبُهَا ، وَلَا مِثْلَ الْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2601)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader