یہ سونے والے
Urdu book, p. 207
By Maulana Wahiduddin Khan
جہنم کا عذاب کتنا ہولناک ہے۔ مگر آدمی اس سے غافل ہے۔ جنت کی نعمتیں کتنی لذیذ ہیں مگر آدمی کو اس کا کوئی شوق نہیں یقینا یہ زمین پر ہونے والے تمام واقعات میں سب سے زیادہ عجیب ہے۔ لوگ سورہے ہیں تا کہ اس وقت جاگیں جب کہ جہنمی آگ کے شعلے ان کے لیے سونے کو ناممکن بنا دیں۔ لوگ غافل ہیں تا کہ اس وقت ہوشیار ہوں جب کہ محرومی اور رسوائی ان کے اوپر اس طرح ٹوٹ پڑے کہ ان کے لیے اس سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہ ہو۔ آج ہر آدمی بے ہوش نظر آتا ہے۔ ہر آدمی اپنے آپ میں اس طرح گم ہے جیسے اس کے اوپر کوئی اور طاقت نہیں۔ حالاں کہ موت ہر روز بتا رہی ہے کہ آدمی ایک ایسی حقیقت سے دوچار ہے جس کے مقابلہ میں کسی کا کچھ بس نہیں چلتا۔ انسان کتنا زیادہ مجبور ہے مگر وہ اپنے آپ کو کتنا زیادہ با اختیار سمجھتا ہے۔ آدمی وعدہ کرتا ہے مگر اس کے بعد اس کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اس کے اوپر کسی کا ایک حق آتا ہے مگر وہ اس کو ادا نہیں کرتا ہے۔ آدمی کے سامنے ایک سچائی آتی ہے مگر وہ اس کا اعتراف نہیں کرتا۔ وہ دوسرے کے اوپر یک طرفہ الزام لگاتا ہے اور اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ وہ چھوٹوں کو نظر انداز کر کے بڑوں کا استقبال کرتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کو اصول کے تابع کرنے کے بجائے خواہشات کے تابع کرتا ہے۔ وہ زور آور سے دبتا ہے اور بے زور کو سستاتا ہے۔ وہ خدا کو مرکز توجہ بنانے کے بجائے خود اپنی ذات کو اپنا مرکز توجہ بناتا ہے۔ وہ جنت کے اشتیاق اور جہنم کے اندیشوں میں جینے کے بجائے دنیا کے اشتیاق اور دنیا کے اندیشوں میں جیتا ہے۔ آدمی یہ سب کچھ کرتا ہے اور بھول جاتا ہے کہ اپنی اس روش سے اپنے آپ کو جہنم کے قریب لے جارہا ہے اور اپنے آپ کو جنت کے لیے نااہل ثابت کر رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader