اللہ اکبر
Urdu book, p. 208
By Maulana Wahiduddin Khan
آہ ! وہ انسان جس کو اسی چیز کا شوق نہیں جس کا اسے سب سے زیادہ شوق ہونا چاہیے ۔ آہ ! وہ انسان جو اسی چیز سے سب سے زیادہ بے خوف ہے جس سے اس کو سب سے زیادہ خوف کرنا چاہیے ۔ خدا اور انسان کائنات خدا کا آئینہ ہے ۔ یہاں خدا اپنی مخلوقات کے روپ میں نمایاں ہے۔ آدمی کی حساسیت اگر زندہ ہو تو اپنے گردو پیش وہ خدا کو پائے گا۔ اپنے چاروں طرف وہ خدا کا مشاہدہ کرے گا۔ خدا کی کائنات اس کے لیے خدا کا زندہ ثبوت بن جائے گی۔ دنیا میں زندگی کی سرگرمیاں اس بات کا کھلا ہوا اعلان ہیں کہ اس دنیا کا خالق ایک زندہ ہستی ہے ۔ نہ کہ کوئی ایسی ہستی جو زندگی اور حیات سے محروم ہو ۔ جب سورج نکلتا ہے اور چھپی ہوئی چیزیں اس کی روشنی میں دکھائی دینے لگتی ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے ۔ جیسے خدا نے اپنی آنکھیں کھولی ہوں ، جیسے خدا ایک دیکھنے والی ہستی ہو اور اپنی آنکھوں سے سارے عالم کو دیکھ رہا ہو۔ دریاؤں میں جب پانی کا سیلاب رواں ہوتا ہے تو وہ پُرشور اعلان کرتا ہے کہ اس دنیا کا خالق ایک ایسا خالق ہے جو چلتا ہے اور اقدام کر کے آگے بڑھتا ہے۔ جنگل کا شیر جب اپنا پنجہ نکال کر کسی جانور کو اپنی پکڑ میں لیتا ہے تو گویا وہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ اس کو پیدا کرنے والا خدا ایک ایسا خدا ہے جو پکڑنے کی طاقت رکھتا ہے اور چیزوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ خلا کی بے پایاں وسعتیں اس حقیقت کا ابدی اظہار ہیں کہ اس کائنات کا خالق ایک لامحدود ہستی ہے ، وہ اپنی ذات میں بھی اتھاہ ہے اور اپنی صفات میں بھی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader