اللہ اکبر
Urdu book, p. 209
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کا یہ کائناتی مشاہدہ ایک طرف آدمی کے اندر خدا کا یقین پیدا کرتا ہے دوسری طرف اس کو بہت بڑے سوال سے دوچار کر دیتا ہے۔ اس دنیا کا اگر خدا ہے تو وہ اپنی دنیا میں ظاہر کیوں نہیں ہوتا۔ دنیا میں بے پناہ برائیاں ہیں۔ یہاں ایک انسان دوسرے انسان پر ظلم کرتا ہے۔ ایک شخص موقع پا کر دوسرے شخص کو ذبح کر دیتا ہے۔ یہ سب خدا کی دنیا میں ہر روز ہورہا ہے مگر خدا ظالموں کا ہاتھ نہیں پکڑتا، وہ مظلوموں کی جانب کھڑا نہیں ہوتا۔ اس سوال کو صرف اس وقت سمجھا جا سکتا ہے جب کہ مخلوقات کے بارے میں خالق کی اسکیم کو سمجھ لیا جائے ۔ موجودہ دنیا خدا کا مستقل بندوبست نہیں، وہ صرف امتحانی بندوبست ہے۔ یہ گویا ایک کھیت ہے جس میں مختلف پودوں کو اگنے کا موقع دے کر یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کون اچھا درخت ہے اور کون جھاڑ جھنکاڑ ۔ اس کے بعد اچھے درختوں کو ہر قسم کے بہترین مواقع دے کر تمام برے درختوں کو اکھاڑ دیا جائے گا اور پھر خدا کی دنیا خدا کے معیاری انتظام کے تحت حسن اور لذت کی ابدی بہشت بن جائے گی۔ انسان کی غلطی انسان نے ہمیشہ خدا کو سمجھنے میں بھی غلطی کی ہے اور اپنے آپ کو سمجھنے میں بھی۔ اس نے خدا کو اپنے جیسا سمجھ لیا اور اپنے آپ کو خدا جیسا۔ یہی ہر دور کے انسان کی غلطی رہی ہے۔ ساری انسانی تاریخ اسی غلطی اور اس کے نتائج کی داستان ہے۔ خدا کو اپنے جیسا سمجھنا یہ ہے کہ خدا کو انسانی سطح پر اتار لایا جائے۔ الحاد اور شرک کی تمام قسمیں اسی غلطی کی پیداوار ہیں۔ الحاد بھی خدا کو انسان پر قیاس کرنے کا دوسرا نام ہے اور شرک بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader