انسان کی غلطی
Urdu book, p. 210
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان ہمیشہ باپ اور ماں کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے، وہ کسی جنے والے کے ذریعہ جنا جاتا ہے۔ اس بنا پر گمان کر لیا گیا کہ خدا اگر ہے تو اس کو جننے والا بھی کوئی ہونا چاہیے۔ کسی کو خدا سے پہلے ہونا چاہیے جو خدا کو وجود بخشے۔ اب چونکہ انسان کو خدائے لم یزل پیدا کرنے والا کوئی نظر نہ آیا اس لیے اس نے خدا کے وجود کا انکار کر دیا۔ انسان اپنی تخلیق کی صورت میں اپنے خالق کو دیکھ رہا تھا۔ مگر وہ اپنے ایک غلط مفروضہ کی وجہ سے اس کو ماننے پر تیار نہ ہوا۔ جن لوگوں نے خدا کو مانا انھوں نے یہی غلطی دوسرے انداز سے کی۔ انھوں نے دیکھا کہ انسان جب کوئی کام انجام دیتا ہے تو بہت سے لوگوں کی مدد سے انجام دیتا ہے۔ اس بنا پر انھوں نے خدا کے بھی شریک اور مددگار فرض کر لیے۔ انسان کے یہاں بڑے لوگوں کی سفارشیں چلتی ہیں۔ چنانچہ مان لیا گیا کہ خدا کے بھی کچھ مخصوص اور قریبی لوگ ہیں جو خدا کے دربار میں اثر رکھتے ہیں اور خدا ان کی سفارشیں قبول کرتا ہے۔ انسان جذبات سے مغلوب ہوتا ہے۔ وہ اکثر حق کے تقاضوں کو چھوڑ کر جذباتی میلان کے تحت فیصلے کرتا ہے۔ اس پر قیاس کرتے ہوئے یہ عقیدہ بنا لیا گیا کہ خدا محض گروہی تعلق کی بنیاد پر کچھ لوگوں سے ایسا معاملہ کرتا ہے جو معاملہ وہ دوسرے گروہ سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ نہیں کرتا۔ اس قسم کا ہر عقیدہ خدا کی خدائی کی نفی ہے۔ مگر انسان اپنی نادانی سے اکثر اپنے ذہن میں ایسے متضاد خیالات کو جمع کر لیتا ہے جن کا بیک وقت درست ہونا ممکن نہیں۔ اپنے آپ کو خدا جیسا سمجھنا یہ ہے کہ آدمی یہ گمان کر لے کہ وہ اپنی تقدیر کا مالک آپ ہے۔ وہ آزاد ہے کہ جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ وہ اپنی زندگی کا اصول آپ وضع کرے اور اپنے حلال و حرام کو خود اپنی عقل سے متعین کرے۔ اس قسم کی ہر کوشش گویا اپنے آپ کو خدا کے مقام پر بٹھانا ہے، جو چیز صرف خدا کا حق ہے اس کا حق دار اپنے آپ کو سمجھنا ہے۔ مگر ایسا ہر گمان اس کائنات میں سراسر باطل ہے۔ کیونکہ انسان صرف ایک عاجز مخلوق ہے، وہ کسی بھی اعتبار سے خالق کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader