انسان کی تلاش
Urdu book, p. 211
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی تلاش انسان کے اندر ایک عجیب خصوصیت ہے جو کسی دوسری مخلوق میں نہیں۔ وہ ہے لا متناہی تلاش کا جذبہ۔ ہر آدمی اپنے پیدائشی جذبہ کے تحت ایک ایسی نامعلوم چیز کی تلاش میں رہتا ہے جس کو اس نے پایا نہیں۔ کوئی بھی کامیابی اس کو اس طلب کے بارے میں مطمئن نہیں کرتی، کوئی بھی ناکامی اس کے اندر سے اس جذبہ کو فنا نہیں کر پاتی۔ فلاسفہ اس کو آئیڈیل کی طلب کہتے ہیں۔ یہ آئیڈیل کی طلب ہی تمام انسانی سرگرمیوں کی حقیقی اور آخری قوت محرکہ ہے۔ اگر یہ طلب نہ ہو تو دنیا کی تمام سرگرمیاں اچانک ٹھپ ہو کر رہ جائیں۔ انسانی ذہن کی یہی وہ زبردست طلب ہے جس کو فرائڈ (1939-1856) نے غلط طور پر جنسی خواہش سے تعبیر کیا۔ ایڈلر (1937-1870) نے اس کو غلط طور پر حصول طاقت کی خواہش قرار دیا۔ میک ڈوگل (1938-1871) نے غلط طور کہا کہ یہ انسان کی تمام حیوانی جبلتوں کے مخلوط کا ایک پراسرار نتیجہ ہے۔ مارکس (1883-1818) نے اس کو غلط طور پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ انسانی زندگی کی معاشی خواہش ہے اور یہی اس کی تمام سرگرمیوں کو کنٹرول کرتی ہے۔ مگر ان توجیہات کو غلط قرار دینے کے لیے یہی واقعہ کافی ہے کہ یہ چیزیں جن لوگوں کو پوری طرح ملیں وہ بھی مطمئن نہ ہو سکے۔ ان کی اندرونی ہستی بھی اسی طرح بے چین رہی جس طرح ان چیزوں سے محروم رہنے والے بے چین نظر آتے ہیں۔ انسان ہزاروں برس سے اپنے اس آئیڈیل کو دنیا کی چیزوں میں تلاش کر رہا ہے ، مگر کوئی بھی شخص اس اطمینان سے دوچار نہیں ہوا کہ اس نے اپنی تلاش کا مکمل جواب پا لیا ہے ۔ اس معاملہ میں بادشاہ یا امیر بھی اتنا ہی غیر مطمئن رہتا ہے جتنا کوئی بے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader