اللہ اکبر
Urdu book, p. 212
By Maulana Wahiduddin Khan
زور اور مفلس آدمی۔ یہ لمبا تجربہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ "نظر آنے والی" دنیا میں آدمی کی تلاش کا جواب موجود نہیں۔ اس کا جواب اس "نظر نہ آنے والی" دنیا میں ہے جس کو آدمی محسوس تو کرتا ہے مگر دیکھ نہیں پات۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ طلب خدا کی طلب ہے۔ آدمی جس آئیڈیل کو پانے کے لیے بے قرار رہتا ہے وہ خود اس کا خالق ہے۔ ہر آدمی جس چیز کی تلاش میں ہے وہ دراصل وہ خدا ہے جو اس کی روح میں سمایا ہوا ہے۔ ہر آدمی اپنی فطرت کے تحت مسلسل خدا کی جستجو میں رہتا ہے وہ اپنے اس اندرونی جذبہ کے تحت دنیا کی مختلف چیزوں کی طرف دوڑتا ہے اور سمجھتا ہے کہ شاید یہ چیز اس کی تلاش کا جواب ہو۔ مگر جب وہ اس کو پا لیتا ہے اور قریب سے اس کا تجربہ کرتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ چیز وہ نہیں جس کی تلاش میں وہ سرگرداں تھا۔ دو قسم کی روحیں قرآن کی سورہ الشمس میں ارشاد ہوا ہے : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا - وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا (91:9-10)۔ یعنی، وہ شخص کامیاب رہا جس نے اپنے آپ کو پاک کیا اور وہ شخص بر باد ہو گیا جس نے اپنے آپ کو گندا کیا۔ موجودہ زندگی آخرت سے پہلے کا ایک امتحانی موقع ہے۔ جو شخص یہاں سے نیک اور ستھری روح لے کر آخرت کی دنیا میں پہنچے گا وہ وہاں جنت کی پر مسرت فضاؤں میں بسایا جائے گا اور جو شخص یہاں سے برائیوں میں لپٹی ہوئی روح لے کر آخرت کی دنیا میں جائے گا اس کو وہاں جہنم کے پر عذاب ماحول میں دھکیل دیا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader