Urdu book · اللہ اکبر

دو قسم کی روحیں

Urdu book, p. 213

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ دنیا گویا خدا کی نرسری ہے۔ نرسری میں مختلف قسم کے پودے اگائے جاتے ہیں۔ زمین میں روئیدگی کی قوت بہت زیادہ ہے۔ چنانچہ یہاں طرح طرح کے پودے اگ آتے ہیں۔ مالی ان سب کی جانچ کرتا ہے۔ جو پودے غیر مطلوب پودے ہیں ان کو وہ کاٹ کر پھینک دیتا ہے۔ اور جو پودے اس کے مطلوب پودے ہیں ان کو اہتمام سے نکال کر لے جایا جاتا ہے تاکہ کسی باغ میں ان کو پھلنے پھولنے کے لیے نصب کر دیا جائے۔ موجودہ دنیا میں آدمی کے لیے بیک وقت دونوں مواقع کھلے ہوئے ہیں۔ وہ چاہے تو اپنی روح کو پاک کرے اور چاہے تو گندا کرتا رہے۔ کوئی وہ شخص ہے جو اللہ کی بڑائی کو مان کر اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیتا ہے۔ اس کے سامنے جب کوئی حق آتا ہے تو وہ بے جھجھک اس کا اعتراف کر لیتا ہے۔ لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے وہ ہمیشہ خیر خواہی اور انصاف کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ دوستی ہو یا دشمنی ہر حال میں وہ خدا کی مرضی پر چلتا ہے نہ کہ اپنے نفس کی مرضی پر۔ یہ وہ شخص ہے جس نے اپنی روح کو پاک کیا۔ اس کو اس کا خدا جنت کی پر بہار دنیا میں بسائے گا۔ دوسرا آدمی وہ ہے جو خود اپنی لڑائی میں گم رہتا ہے۔ اس کے سامنے حق آتا ہے تو وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ معاملات میں وہ سرکشی اور بے انصافی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ اپنی مرضی پر چلتا ہے نہ کہ خدا کی مرضی پر۔ یہی وہ آدمی ہے جس نے اپنی روح کو گندا کیا۔ کائنات کا مالک اس کو اپنے پڑوس کے لیے قبول نہیں کرے گا۔ وہ اس کو جہنم میں دھکیل دے گا تاکہ وہ ابدی طور پر اپنے جرم کی سزا بھگتتا رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page