Urdu book · اللہ اکبر

مقبول بندے

Urdu book, p. 214

By Maulana Wahiduddin Khan

مقبول بندے جسم میں اگر ایسا خون داخل کیا جائے جو آدمی کے بلڈ گروپ کا نہ ہو تو جسم اس کو قبول نہیں کرتا۔ اس کے اندر فوراً ضد جسم (antibodies) پیدا ہوجاتے ہیں۔ اور وہ خون باہر نکال دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جلے یا کٹے ہوئے حصہ جسم پر قلم بندی ہوتی ہے جس کی محفوظ صورت یہ ہے کہ خود اپنے جسم کی کھال لے کر مقام ماؤف پر لگا دی جائے جس کو آٹو گریٹنگ کہتے ہیں۔ اب اگر کسی مقام پر کھال کی قلم بندی (Skin Grafting) کرنی ہے اور وہاں کسی غیر متعلق جسم کی کھال لے کر لگادی گئی تو وہ چند دن ٹھیک رہے گی۔ مگر ایک ہفتہ کے اندر جسم اس کی اجنبیت کو پہچان لے گا۔ خون کا دوران اس مقام پر رک جائے گا اور بالآخر کھال کا مذکورہ ٹکڑا الگ ہوکر گر جائے گا۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر ولیم بائڈ (1979-1885) نے اپنی پیتھا لوجی (pathology) کی کتاب (صفحہ 177) میں لکھا ہے کہ خودی غیر خودی کو قبول نہیں کرتی: Self will not accept not-self. یہ چھوٹے سلف (انسان) کی خودداری کی ایک مثال ہے۔ اسی پر بڑے سلف (خدا) کی غیرت اور خودداری کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا تمام غیرت مندوں سے زیادہ غیرت مند اور تمام یکتا پسندوں سے زیادہ یکتا پسند ہے۔ خدا کسی حال میں بھی کسی قسم کی دوئی کو گوارہ نہیں کرتا۔ وہ ہر دوسرے قصور کو معاف کر دے گا مگر شرک کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔ وہ کون خوش قسمت لوگ ہیں جو آخرت میں خدا کے مقبول بندے ٹھہریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے سلف کے خول کو توڑ کر خدا کے سلف میں گم ہونے پر راضی ہوگئے۔ جو اپنی یا کسی دوسرے کی یکتائی کو بھلا کر خدا کی یکتائی کے آگے جھک گئے۔ جنھوں نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page