Urdu book · اللہ اکبر

کم سمجھنا

Urdu book, p. 217

By Maulana Wahiduddin Khan

والدہ بھی اس دنیا سے چلی گئیں۔ آپ کو حلیمہ سعدیہ نے دودھ پلایا۔ حلیمہ کے شوہر کو ابو کبشہ کہا جاتا تھا۔ یہ ایک نہایت غریب خاندان تھا جو محنت مزدوری پر گزر کرتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں ایک یتیم بچے کی حیثیت سے پرورش پائی۔ وہ قلیل معاوضہ پر مکہ والوں کی بکریاں چراتے تھے۔ آپ کے ساتھ کوئی عظیم ماضی شامل نہ تھا۔ چنانچہ مکہ والوں کی نظر میں آپ کی تصویر ایک حقیر تصویر بن گئی۔ آپ کا شمار مکہ کے بڑے لوگوں میں نہ تھا۔ بلکہ ان لوگوں میں تھا جو لوگوں کے نزدیک قابل تذکرہ نہیں ہوتے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ کر جب آپ پر وحی آئی اور آپ نے مکہ میں اپنی پیغمبری کا اعلان کیا تو لوگوں کو یہ ایک مذاق کی بات معلوم ہوئی۔ مکہ والوں کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ شخص جو کل تک ایک معمولی آدمی تھا وہ آج خدا کا رسول کیسے بن گیا۔ انھوں نے حقارت کے ساتھ کہا کہ یہ ابو کبشہ کے لڑکے کو دیکھو، وہ کہتا ہے کہ اس کو آسمان سے وحی آتی ہے: ھٰذَا ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ يُكَلَّمُ مِنَ السَّمَاءِ (نور الیقین، جلد 1، صفحہ 10)۔ یہی چیز ہر دور میں پیغمبروں کے ہم زمانہ لوگوں کے لیے پیغمبروں کے انکار کا سبب بن گئی۔ خدا نے کبھی بادشاہوں یا وقت کی عظیم شخصیتوں کو پیغمبر نہیں بنایا۔ بلکہ غیر معروف لوگوں میں سے ایک شخص کو پیغمبری کے لیے چن لیا۔ اب جن لوگوں نے اس شخص کو پیغمبری سے پہلے کم سمجھا تھا وہ پیغمبری کے بعد بھی اس کو کم سمجھتے رہے۔ خدا نے انھیں بڑا کر دیا مگر جو لوگ انھیں پہلے چھوٹا دیکھ چکے تھے ان کے لیے ممکن نہ ہوا کہ وہ ان کی بڑائی کو پہچانیں اور ان کو اپنا بڑا بنائیں۔ یہ سب سے بڑا نفسیاتی فتنہ ہے جو ہر دور میں لوگوں کے لیے حق کو ماننے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ حقیقت کو ’’غیب‘‘ کی سطح پر پالے۔ وہ سچائی کو اس کے مجرد روپ میں پہچان سکے۔ لوگ عظمتوں کی سطح پر اعتراف کا ثبوت دے رہے ہیں۔ حالاں کہ اعتراف کا ثبوت وہاں دینا پڑتا ہے جہاں بظاہر دیکھنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page