Urdu book · اللہ اکبر

پانے کے باوجود محروم

Urdu book, p. 221

By Maulana Wahiduddin Khan

کہا جاتا ہے کہ چارلی چپلن کو دنیا کے ہر حصہ میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کی تقریباً 80 فلمیں ایسی ہیں جو مسلسل کہیں نہ کہیں دکھائی جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ 1914-17 میں اپنی ابتدائی زندگی میں اس نے جن فلموں میں کام کیا تھا وہ فلمیں بھی ابھی تک تاجرانہ حیثیت سے کامیاب ہیں۔ یہ ابتدائی فلمیں بھی آج محض تاریخی یادگار کے طور پر نہیں دکھائی جاتیں بلکہ جدید تفریح کے معیار سے ان کو دیکھا جاتا ہے۔ چارلی چپلن موجودہ زمانہ کا واحد فلمی کردار ہے جواب بھی اتنے شوق سے دیکھا جاتا ہے۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 300 ملین ایسے لوگ ہیں جنھوں نے چارلی چپلن کی 80 فلموں میں سے ایک ایک فلم کو دیکھا ہے۔ چارلی چپلن کی ابتدائی زندگی نہایت غربت میں گزری تھی۔ چنانچہ بعد کو کثیر دولت کا مالک ہونے کے باوجود اس کو ہمیشہ یہ ڈر لگا رہتا تھا کہ کہیں وہ دوبارہ مفلس نہ ہو جائے۔ اس نے ایک کے بعد ایک چارشادیاں کیں۔ آخر عمر میں وہ بالکل ناکارہ ہو گیا۔ اس کی زندگی وہیل چیئر (پہیہ دار کرسی) پر گزرتی تھی۔ اس کی نگاہ بے حد کمزور ہو گئی تھی ۔ اس کے بولنے اور سننے کی طاقتیں جواب دے گئی تھیں۔ حقیقی چارلی چپلن بستر پر ناکارہ پڑا تھا۔ مگر فلمی چارلی چپلن بدستور سینما ہاؤسوں میں لوگوں کی تفریح کا مرکز بنا ہوا تھا۔ چارلی چپلن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ”اس نے کسی بھی دوسرے انسان کے مقابلہ میں لوگوں کو زیادہ خوشی دی اور زیادہ ہنسایا۔“ مگر اس کا اپنا انجام یہ ہوا کہ وہ آخر عمر میں اپنے بڑھاپے کو بے بسی کے ساتھ دیکھا کرتا تھا اور اس کا ہنسنا اس سے رخصت ہو چکا تھا۔ 25 دسمبر 1977 کو چار بجے صبح اس وقت اس کا انتقال ہو گیا جب کہ صرف چند گھنٹے بعد اس کا خاندان کرسمس کی سالانہ تقریبات منانے کی تیاریاں کر رہا تھا۔ چارلی چپلن کے ایک سوانح نگار ڈینس گینگفرڈ (Denis Gifford) نے اس کے انجام کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page