Urdu book · اللہ اکبر

پانے کے باوجود محروم

Urdu book, p. 222

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ جب کام کرتا تھا تو وہ محض فلم سے کچھ زیادہ کی تخلیق کرتا تھا۔ ہنسی اور محبت کے ساتھ جینا، خواب اور امیدیں ۔ مگر ہمیشہ خوشیوں پر خاتمہ کہاں تھا، اگر بالآخر وہ کل کی سڑک پر قدم رکھنے سے زیادہ کچھ نہ ہو (آر۔ڈی جون 1978 )۔ چارلی چپلن کی موت کے بعد ایک مبصر نے اس کی بابت حسب ذیل الفاظ لکھے : تھے Chaplin's life has been filled to the brim with what most lives consist of yearning after...wealth and fame and creative play and beautiful women... but he does not know how to enjoy any of the four. Max Eastman in Ladies Home Journal. چارلی چپلن کی زندگی ان چیزوں سے آخری کنارے تک بھری ہوئی تھی جس کی دوسرے اکثر لوگ صرف تمنا کرتے ہیں۔ دولت ، شہرت، تخلیقی اداکاری اور خوبصورت عورتیں۔ مگر اس کو نہیں معلوم تھا کہ ان چاروں میں کسی ایک سے بھی وہ کس طرح لطف اندوز ہو ۔ چارلی چپلن کی یہ کہانی تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ کچھ لوگ چارلی چپلن کی طرح پا کر محروم رہتے ہیں۔ اور دوسرے لوگ پائے بغیر محروم۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں پانے والا بھی اتناہی محروم ہے جتنا نہ پانے والا۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس سب سے بڑی حقیقت کو جانتے ہوں۔ امریکا کی ایک نوجوان عورت نے خود کشی کر لی۔ اس کی جیب میں ہاتھ سے لکھا ہوا ایک پرچہ تھا۔ اس میں درج تھا: مجھے خوشی کی تلاش تھی۔ اس کے لیے میں نے نشہ کا استعمال کیا۔ میں جنسی آوارگی کی حد تک گئی۔ مگر مجھے کہیں خوشی نہیں ملی۔ اب میں مایوس ہو کر اپنے آپ کو ختم کر رہی ہوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page