Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 223

By Maulana Wahiduddin Khan

اکثر آزاد خیال مردوں اور عورتوں کا یہی حال ہے۔ وہ خوشی کی تلاش میں سب کچھ کر ڈالتے ہیں۔ مگر آخر میں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ان کی تلاش کا جواب موجود نہیں۔ اس کے بعد کچھ مایوسانہ زندگی گزار کر طبعی موت مرتے ہیں اور کچھ لوگ جھنجھلاہٹ میں آکر خودکشی کر لیتے ہیں۔ کتنے بے خبر ہیں وہ لوگ جو اپنے کو جاننے والا سمجھتے ہیں۔ کیسے ناکام ہیں وہ لوگ جن کا نام کامیاب انسانوں کی فہرست میں سب سے آگے لکھا ہوا ہے۔ امتحان گاه قرآن وحدیث میں زندگی کا یہ تصور دیا گیا ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی کو جو کچھ ملتا ہے وہ صرف بطور آزمائش ملتا ہے۔ وہ اس کا حق نہیں ہوتا۔ آدمی ان چیزوں سے صرف ایک مقررہ مدت تک فائدہ اٹھاتا ہے اس کے بعد موت آتی ہے اور اس کے سازوسامان سے اسے جدا کر دیتی ہے۔ موت سے پہلے یہ چیزیں ہر ایک کو ملتی ہیں مگر موت کے بعد صرف اس کو ملیں گی جو آزمائش میں پورا اترے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھیے۔ ایک طالب علم امتحان کے کمرہ میں ہے۔ وہ اپنا تعلیمی امتحان دے رہا ہے۔ اس وقت بظاہر وہ ایک مکان میں ہے۔ اس کے پاس میز اور کرسی اور دوسرے ضروری سامان ہیں۔ اس کے خدمت گار بھی وہاں موجود ہیں۔ بظاہر دیکھنے والوں کو وہ صاحب ملک آدمی نظر آتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ محض وقتی ہے۔ جیسے ہی وقت پورا ہونے کا الارم بجتا ہے۔ اچانک معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس کا کچھ بھی نہ تھا۔ ہر چیز جو وہاں اس کے پاس تھی اس سے واپس لے لی جاتی ہے۔ اور وہ بلا تاخیر امتحان گھر کے باہر نکال دیا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page