Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 224

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی معاملہ وسیع تر معنوں میں دنیا کا بھی ہے۔ یہ دنیا انسان کے لیے ایک خدائی امتحان گاہ ہے۔ یہاں ہر آدمی صرف اس لیے ہے کہ وہ اپنا امتحان دے۔ خدا نے ہر آدمی کے لیے مدت مقرر کر رکھی ہے۔ جیسے ہی یہ مدت پوری ہوتی ہے۔ فورا موت کا فرشتہ آتا ہے اور آدمی کو جبر اً اس دنیا سے نکال کر خدا کے سامنے حاضر کر دیتا ہے تا کہ ہر آدمی کو اس کے عمل کے مطابق اس کا بدلہ دیا جائے۔ موت کا لمحہ امتحان کی مدت ختم ہونے کا لمحہ ہے۔ جب یہ لمحہ آتا ہے تو آدمی جان لیتا ہے کہ ان چیزوں میں سے اس کا کچھ نہ تھا جس کو وہ اپنا سمجھے ہوئے تھا۔ جس مکان کو اس نے بنایا تھا وہ اس سے جدا کر دیا جاتا ہے۔ جس جائیداد کو وہ اپنی چیز سمجھتا تھا وہ اس سے چھین لی جاتی ہے۔ جن آدمیوں کو وہ اپنے آدمی سمجھتا تھا وہ اس سے بچھڑ جاتے ہیں۔ یہ لمحہ ہر آدمی پر آنے والا ہے۔ خوش قسمت ہے وہ جو اس کے آنے سے پہلے اس کو جان لے جو آنے سے پہلے اس کی تیاری کرلے۔ قانون کی حد 26 اگست 1978 کو دہلی میں بھیانک جرم کا ایک واقعہ ہوا۔ ایک فوجی افسر ایم ایم چوپڑا کے دو بچے سنجے (15) اور گیتا (17) انتہائی بے قصور طور پر مار ڈالے گئے ۔ نو جوان بہن بھائیوں کے اس قتل پر ملک کا ضمیر جاگ اٹھا۔ مجرمین کی تلاش شروع ہوئی ۔ بالآخر قتل کے دونوں مجرمین جبیر سنگھ عرف بلا (25) اور کلجیت سنگھ عرف رنگا (23) ایک ٹرین میں سفر کرتے ہوئے آگرہ اسٹیشن پر پکڑ لیے گئے۔ اس کے بعد دونوں پر قتل کا مقدمہ چلا۔ لمبی عدالتی کارروائی کے بعد دونوں کو پھانسی دینے کا فیصلہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page