قانون کی حد
Urdu book, p. 225
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوا مختلف قانونی مراحل سے گزر کر بالآخر دونوں کو 31 جنوری 1982 کو دہلی کے تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ ایڈیشنل سیشن جج ایم کے چاولا نے پانچ صفحات کے فیصلے میں دونوں کے لیے موت کا حکم دیتے ہوئے لکھا: The ends of justice would be met only if the two accused were put to eternal sleep, thereby allowing others to live in peace. انصاف کے مقاصد صرف اسی طرح حاصل ہو سکتے ہیں کہ دونوں مجرم ہمیشہ کی نیند سلا دیے جائیں تا کہ دوسروں کو امن کے ساتھ جینے کا موقع ملے (ہندوستان ٹائمس، 1 فروری 1982)۔ جج کے یہ الفاظ انسانی قانون کی حد کو بہت اچھی طرح بتاتے ہیں۔ انسانی قانون کے بس میں صرف یہ ہے کہ وہ مجرم اور سماج کو ایک دوسرے سے جدا کر دے۔ وہ مجرم کو اس کے جرم کی حقیقی سزا نہیں دے سکتا۔ ایک شخص جب کسی معصوم جان کو ناحق ذبح کر دے تو یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ موجودہ محدود دنیا کی کوئی سزا اس کے جرم کے برابر نہیں ہو سکتی۔ دنیا کا جج بس اتنا ہی کر سکتا ہے کہ جس شخص کے اندر اس قسم کا مجرمانہ ذہن دیکھے اس کو آئندہ کے لیے سماج سے ہٹا دے۔ موجودہ دنیا کی یہ محدودیت تقاضا کرتی ہے کہ اس کے بعد ایک اور لامحدود دنیا آئے جہاں یہ کمی پوری ہو۔ جہاں کے جج کے امکان میں صرف یہ نہ ہو کہ وہ ظالم اور مظلوم میں جدائی کر دے بلکہ وہ ظالم کو اس کے ظلم کی ایسی سزا دے سکے جو انصاف کے تقاضے کو پورا کرنے والی ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader