Urdu book · اللہ اکبر

دلیل اور شخصیت

Urdu book, p. 226

By Maulana Wahiduddin Khan

دلیل اور شخصیت قرآن میں حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ مختلف مقامات پر تفصیل سے بیان ہوا ہے ۔ فرعون نے جب مصر کے جادوگروں کو بلایا اور حضرت موسیٰ سے ان کا مقابلہ ہوا تو یہ واقعہ پیش آیا کہ جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں ڈالیں ۔ وہ جادو کے زور سے سانپ کی مانند چلتی ہوئی نظر آنے لگیں ۔ اس وقت حضرت موسیٰ نے خدا کے حکم سے اپنا عصا ڈالا تو وہ تمام سانپوں سے بڑا سانپ بن کر میدان میں دوڑنے لگا ۔ اس نے جادوگروں کے جادو کو نگل لیا ۔ وہ جدھر جدھر گیا ۔ جادوگروں کی رسیاں اور لاٹھیاں بس رسیاں اور لاٹھیاں بن کر رہ گئیں ۔ یہ دیکھ کر جادوگروں نے سمجھ لیا کہ حضرت موسیٰ کا معاملہ کوئی جادو کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ خدا کا معاملہ ہے ۔ حضرت موسیٰ کے مظاہرے میں جادوگروں کو خدا کی معرفت حاصل ہوگئی ۔ انھوں نے اسی وقت اپنے ایمان کا اعلان کر دیا ۔ یہ فرعون کی کھلی ہوئی شکست تھی ۔ اس نے غصہ میں آ کر جادوگروں کے لیے مصر کی سخت ترین سزا کا اعلان کر دیا ۔ وہ یہ کہ جادوگروں کے ہاتھ اور پاؤں کو مخالف سمتوں سے کاٹ کر انہیں تڑپایا جائے اور پھر انہیں کھجور کے تنوں پر لٹکا کرسولی دے دی جائے ۔ اس سزا کو سن کر جادوگروں کی زبان سے نکلا_ ہم تجھ کو ان دلائل پر ترجیح نہ دیں گے جو ہمارے پاس آئے ہیں : لَنْ نُّؤْثِرَکَ عَلٰی مَّا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنَاتِ (20:72) ۔ جادوگروں کے سامنے ایک طرف عظیم شخصیت تھی اور دوسری طرف کھلی ہوئی دلیل شخصیت اور دلیل کے اس مقابلہ میں انھوں نے وہی کیا جو ایک سچے انسان کو کرنا چاہیے ۔ انھوں نے شخصیت کو نظر انداز کر دیا اور دلیل کو لے لیا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page