Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 227

By Maulana Wahiduddin Khan

جب آدمی کے سامنے ایسی دلیل آجائے جو بات کو اس طرح ثابت شدہ بنا دے کہ وہ اس کی تردید کے لیے کوئی جوابی دلیل پیش کرنے سے عاجز رہے تو اس پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ دلیل کو لے لے اور اس کے خلاف شخصیتوں کو چھوڑ دے۔ دلیل کا اس طرح ظہور دراصل خدا کا ظہور ہے۔ جو لوگ دلیل کے مقابلہ میں شخصیت کو ترجیح دیں انھوں نے گو یا خدا کے مقابلہ میں غیر خدا کو ترجیح دی۔ ایسے لوگوں کے لیے زمین و آسمان کے اندر کوئی جگہ نہیں۔ یہ غیر خدا کو اپنا بنانا ہے۔ پھر خدا کی دنیا میں جو لوگ غیر خدا کو اپنا بنا ئیں وہ کیسے یہاں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ کائنات کا دستر خوان قرآن میں ہے کہ اللہ آسمان و زمین کا نور ہے (24:35)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا تمام کی تمام خدائی صفات کا مظہر ہے۔ حساس قلب کو یہاں کی ہر چیز میں خدا کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ رزق خداوندی کا دستر خوان ہے۔ خدا پر ایمان اگر کسی آدمی کو وہ حساسیت دے دے جو خدا پر سچے ایمان سے پیدا ہوتی ہے تو کائنات میں فی الواقع اس کو ہر طرف خدا کا نور دکھائی دے گا۔ ہوا کے لطیف جھونکے جب اس کے جسم کو چھوئیں گے تو اس کو ایسا محسوس ہوگا کہ لمس خداوندی کا کوئی حصہ اسے مل رہا ہے۔ دریاؤں کی روانی میں اس کو رحمت حق کا جوش ابلتا ہوا نظر آئے گا۔ چڑیوں کے چہچہے جب اس کے کان میں رس گھولیں تو اس کے دل کے تاروں پر زمزمۂ خداوندی کے نغمے جاگ اٹھیں گے۔ پھولوں کی مہک جب اس کے مشام جان کو معطر کرے گی تو وہ اس کے لیے خدائی خوشبو میں نہانے کے ہم معنی بن جائے گی۔ ساری کائنات مومن کے لیے رزق روحانی کا دستر خوان ہے، ویسے جیسے جنت اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page