Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 228

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لیے رزق مادی کا دستر خوان ہوگی۔ موجودہ دنیا کی تمام چیزوں کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ ان کو دیکھ کر انسان عبرت حاصل کرے، ان کے ذریعہ وہ ان ربانی کیفیات کو پالے جوان کے اندر ان لوگوں کے لیے رکھ دی گئی ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔ ڈھاک ایک معمولی درخت ہے۔ مگر اس کے اور پر بے حد حسین پھول اگتے ہیں۔ موسم خزاں کے پت جھڑ کے بعد اس کا درخت بظاہر ایک سوکھی لکڑی کی مانند، اس سے بھی زیادہ ایک سوکھی زمین پر کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک خاموش انقلاب آتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر نہایت خوش رنگ پھول اس کی شاخوں میں کھل اٹھتے ہیں۔ سوکھی لکڑی کا ایک ڈھانچہ لطیف اور رنگین پھولوں سے ڈھک جاتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ایک محروم اور بے قیمت وجود کے لیے خدا نے خصوصی طور پر اپنی خوب صورت چھتری بھیج دی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ کوئی بندہ خدا اس کو دیکھ کر کہے۔ ”اے خدا! میں بھی ایک ڈھاک ہوں، تو چاہے تو میرے اوپر حسین پھول کھلا دے۔ میں ایک ٹھٹھ ہوں، تو چاہے تو مجھ کو سر سبز و شاداب کردے۔ میں ایک بے معنی وجود ہوں، تو چاہے تو میری زندگی کو معنویت سے بھر دے۔ میں جہنم کے کنارے کھڑا ہوں تو چاہے تو مجھ کو جنت میں داخل کردے۔“ صرف "کرنا" کافی نہیں بالٹی کے پیندے میں سوراخ ہو اور اوپر سے آپ اس میں پانی ڈالیں تو سارا پانی بہہ کر نکلتا رہے گا اور بالٹی کے اپنے حصہ میں کچھ نہیں آئے گا۔ ایسا معاملہ انسان کا بھی ہے۔ آدمی کا وہی عمل حقیقتاً عمل ہے جو خود اس کو کچھ دے رہا ہو۔ اگر آدمی بظاہر سرگرمیاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page