Urdu book · اللہ اکبر

صرف ’’کرنا‘‘ کافی نہیں

Urdu book, p. 229

By Maulana Wahiduddin Khan

دکھا رہا ہو اور اس کا اپنا وجود کچھ پانے سے محروم ہو تو اس کی سرگرمیوں کی کوئی حقیقت نہیں عمل وہی عمل ہے جس کے دوران آدمی کے ذہن میں شعور کی چنگاری پڑے ۔ اس کے دل میں سوز و ٹڑپ کا کوئی لاوا ابلے۔ اس کی روح کے اندر کوئی کیفیاتی ہل چل پیدا ہو۔ اس کے اندرون میں کوئی ایسا حادثہ گزرے جو برتر حقیقتوں کی کوئی کھڑکی اس کے لیے کھول دے۔ یہی یافت کسی عمل کی کامیابی کا اصل معیار ہے۔ وہی عمل عمل ہے جو آدمی کو اس قسم کے تحفے دے رہا ہو۔ جس عمل سے آدمی کو یہ چیزیں نہ ملیں وہ ایسا ہے جیسے سوراخ دار بالٹی میں پانی گرانا۔ دیکھنے کی چیز یہ نہیں ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ آپ کیا ہو رہے ہیں۔ اگر آپ کی ’’مصروفیات‘‘ بہت بڑھی ہوئی ہوں، اگر بتانے کے لیے آپ کے پاس بہت سے کارنامے ہوں مگر آپ کی اندرونی ہستی خالی ہو، آپ خود کچھ نہ ہو رہے ہوں تو آپ کی مصروفیات محض بے فائدہ سرگرمیاں (idle business) ہیں۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہوائیں ہوں مگر ان سے آکسیجن نہ ملے۔ پانی ہو مگر اس سے سیرابی حاصل نہ ہو۔ غذا ہو مگر اس سے آدمی کو قوت نہ ملے۔ سورج ہو مگر وہ روشنی نہ دے رہا ہو تو ایسا ہونا ہونا نہیں ہے بلکہ نہ ہونے کی بدترین شکل ہے۔ اسی طرح جو عمل آدمی کی اپنی غذا نہ بن رہا ہو وہ عمل نہیں صرف بے عملی ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ بے معنی چیز۔ پتھر کے اوپر آپ پانی ڈالیں تو وہ بظاہر پانی سے بھیگ جائے گا۔ اس کے چاروں طرف پانی پانی نظر آئے گا۔ مگر پتھر پانی کے مزہ اور تراوٹ کو نہیں جانتا ، اس نے پانی کی اس دوسری حیثیت کا تجربہ نہیں کیا۔ اس کے برعکس، ایک زندہ آدمی جب پیاس کے وقت پانی پیتا ہے تو اس کی رگیں تر ہو جاتی ہیں، وہ پانی کی حقیقت کا ایک ’’اندرونی تجربہ‘‘ کرتا ہے۔ اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ کرنا کیا ہے اور ہونا کیا ہے۔ کرنا یہ ہے کہ آدمی کچھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page