اللہ اکبر
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
مہک کو پائے اور پانی کی روانی میں خدا کی بخشش کو دیکھیے۔ مومن اور غیر مومن کا فرق یہ ہے کہ غیر مومن کی نگاہ مخلوقات میں اٹک کر رہ جاتی ہے اور مومن مخلوقات سے گزر کر خالق تک پہنچ جاتا ہے۔ غیر مومن مخلوقات کے حسن کو خود مخلوقات کا حسن سمجھ کر انہی میں محو ہو جاتا ہے۔ مومن مخلوقات کے حسن میں خالق کا حسن دیکھتا ہے اور اپنے آپ کو خالق کے آگے ڈال دیتا ہے۔ غیر مومن کا سجدہ چیزوں کے لیے ہوتا ہے اور مومن کا سجدہ چیزوں کے خالق کے لیے۔ خدا کی تلاش ایک بے حد ذہن شخص تھا۔ وہ مستقل طور پر اسی احساس میں مبتلا رہتا تھا کہ میں زندگی میں اپنے واقعی مقام کو نہ پاسکا۔ بالآخر اس نے خودکشی کرلی۔ اس نے اپنی خودکشی کی تحریر میں لکھا تھا: ”میں اپنی زندگی کو ختم کر رہا ہوں۔ کیوں کہ میں شاید ایسی دنیا میں بھٹک آیا جس کے لیے میں پیدا نہیں کیا گیا تھا۔“ کمی کا یہ احساس اکثر ان لوگوں کا پیچھا کیے رہتا ہے جو فطرت سے غیر معمولی ذہن لے کر پیدا ہوئے ہوں۔ وہ یا تو مایوسی اور ناکامی کی زندگی گزار کر طبعی موت مرتے ہیں یا خود کشی کر لیتے ہیں۔ کم تر ذہن رکھنے والوں میں ایسے لوگ کافی مل جائیں گے جو بظاہر مطمئن زندگی گزارتے ہوں ۔ مگر برتر ذہن رکھنے والوں میں مشکل ہی سے کوئی شخص ملے گا جو مطمئن زندگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہو۔ اس کی وجہ انسان کی معیار پسندی ہے۔ ہر انسان فطری طور پر آئیڈیل کی تلاش میں ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں آئیڈیل کو پانا اتنا مشکل معلوم ہوتا ہے کہ یہ مثل بن گئی ہے کہ معیار کبھی حاصل نہیں کیا جاسکتا: Ideal cannot be achieved

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader