Urdu book · اللہ اکبر

پچپن سال کے بعد

Urdu book, p. 235

By Maulana Wahiduddin Khan

(B.I.M.S) کا کورس کر رہے تھے۔ 1955 کا واقعہ ہے، ان کے استاد ڈاکٹر انوار احمد صاحب نے ایک بار ان سے پوچھا: دتہ جی، آپ تو ایک اچھی ملازمت میں ہیں۔ پھر آپ بی آئی ایم ایس کا کورس کیوں کر رہے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا: ”نوکری پچپن سال کی ہے اور زندگی سو سال کی۔ پھر نوکری سے ریٹائر ہونے کے بعد کیا کروں گا۔“ کہنے والے نے زندگی کی جو تقسیم موجودہ دنیا کے اعتبار سے کی ہے وہی تقسیم وسیع تر معنوں میں دنیا اور آخرت کے اعتبار سے بھی ہے۔ دنیا میں انسان کی عمر کو اگر بچپن سال سمجھیں اور آخرت کی طویل تر زندگی کو علامتی طور پر ”سو سال“ سمجھیں تو معلوم ہوگا کہ ہر آدمی وسیع تر معنوں میں اسی سوال سے دوچار ہے۔ تاہم ہر آدمی کو صرف اپنے ”55“ سال کی فکر ہے، کسی کو اپنے ”سو سال“ کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں۔ دنیا کی ”55 سالہ “ زندگی کے لیے ہر آدمی سرگرم ہے۔ ہر آدمی اپنی ساری طاقت خرچ کرکے اس کی تعمیر میں لگا ہوا ہے۔ اس معاملہ میں ہر آدمی اتنا زیادہ سنجیدہ ہے کہ وہ فوراً اس کے نشیب و فراز کو سمجھ لیتا ہے۔ وہ اس کے کسی موقع کو کھونا کسی حال میں گوارا نہیں کرتا۔ دوسری طرف ”سو سالہ“ زندگی جو موت کے بعد شروع ہوتی ہے، اس کی کسی کو پروا نہیں۔ اس معاملہ میں آدمی نہ کچھ سوچنے کی ضرورت کرتا اور نہ کچھ کرنے کی۔ یہاں کوئی یہ کہنے والا نہیں ملتا کہ - موت سے پہلے کی زندگی تو صرف ”55 سال“ کی ہے اور موت کے بعد کی زندگی ”سو سال“ کی۔ پھر اگر ابھی سے میں نے تیاری نہ کی تو موت کے بعد کی ”سو سالہ زندگی“ میں میں کیا کروں گا۔ کیسا عجیب ہے وہ انسان جو تھوڑی زندگی کے لیے تو بہت زیادہ کر رہا ہے مگر زیادہ زندگی کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار نہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page