اللہ اکبر
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
اب ہوتا یہ ہے کہ کم تر درجہ کا ذہن رکھنے والوں میں چونکہ شعور بہت زیادہ بیدار نہیں ہوتا۔ وہ آئیڈیل اور غیر آئیڈیل کے درمیان بہت زیادہ فرق نہیں کرپاتے۔ وہ اپنے موٹے ذوق کی وجہ سے غیر آئیڈیل میں بھی اس طرح مشغول ہو جاتے ہیں جیسے کہ وہ ان کا آئیڈیل ہو۔ مگر جو لوگ زیادہ ذہین ہیں وہ آئیڈیل اور غیر آئیڈیل کے فرق کو فوراً محسوس کر لیتے ہیں اور اس بنا پر آئیڈیل سے کم کسی چیز پر اپنے کو راضی نہیں کر پاتے۔ انسان کا آئیڈیل ایک ہی ہوسکتا ہے اور وہ اس کا خالق اور رب ہے۔ اعلیٰ ذہن کے لوگ جس چیز کی تلاش میں ہیں وہ ربانی مشن کے سوا اور کچھ نہیں۔ خدا کا وجود ہی آئیڈیل وجود ہے اور خدا کے مشن میں اپنے کو مشغول کر کے ہی ہم اس چیز کو پا سکتے ہیں جو ہماری پوری ہستی کو تسکین دے اور آئیڈیل کے بارے میں ہمارے ذہنی معیار پر مکمل طور پر پورا اترے۔ انسان کا آئیڈیل اس کا خدا ہے، مگر وہ اپنے اس آئیڈیل کو نا کام طور پر غیر خدا میں تلاش کر رہا ہے۔ توہم پرستی امریکا کی ریپبلکن پارٹی (Republican Party) کے ایک عہدیدار مسٹر سیلر (1921-2021ء) نے بتایا کہ امریکی صدر رونالڈ ریگن (2004-1911) ہر وقت اپنی جیب میں ایک چھوٹی سی سونے کی نعل رکھتے ہیں۔ یہ نعل ان کو صدر بننے سے تقریباً پانچ سال پہلے ان کے ایک دوست نے دی تھی۔ صدر ریگن کو یقین ہے کہ اس سنہری نعل میں طلسماتی اثرات چھپے ہوئے ہیں۔ وہ ان کو ہر آفت سے بچاتی ہے ۔ چنانچہ مارچ 1981ء میں جب ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تو ان کے خیال کے مطابق اسی نعل نے ان کو اس سے محفوظ رکھا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader