اللہ سے ڈرنے والے
Urdu book, p. 240
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جن کے دل میں حرام و حلال کا لحاظ رہتا ہے۔ ان کو خیال آتا رہتا ہے کہ مرنے کے بعد اللہ کے یہاں حساب کتاب کے لیے حاضر ہونا ہے۔ عام حالات میں وہ اللہ سے ڈر کر زندگی گزارتے ہیں۔ روز مرہ کی زندگی میں کسی کو ان سے حق تلفی اور بے اخلاقی کا تجربہ نہیں ہوتا۔ تا ہم وہ اپنی نفسیاتی پیچیدگیوں سے اٹھے ہوئے نہیں ہوتے۔ ان کا خوف خدا اتنا مکمل نہیں ہوتا کہ وہ ان کے نفس کے اندر چھپے ہوئے جذبات کا احاطہ کر لے۔ عام حالات میں وہ خدا ترس زندگی گزارتے ہیں۔ مگر جب کوئی غیر معمولی حالت پیش آئے تو اچانک وہ دوسری قسم کے انسان بن جاتے۔ کبھی کسی کی محبت کا لحاظ، کبھی کسی کے خلاف نفرت کا جذبہ، کبھی اپنی عزت کا سوال ان کے اوپر اس طرح غالب آتا ہے کہ ان کا خوف خدا اس کے نیچے دب کر رہ جاتا ہے۔ یہ عمل چونکہ اکثر غیر شعوری طور پر ہوتا ہے اس لیے بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے اوپر نفس کے اس حملہ سے آگاہ ہوں اور اپنے آپ کو تھامے ہوئے اپنے کو متقیانہ روش پر قائم رکھیں۔ معمول کے حالات میں خدا ترسی کی زندگی گزارنے والا غیر معمولی حالات میں وہی کچھ کر گزرتا ہے جو پہلی قسم کے لوگ اپنی عام زندگی میں کرتے رہتے ہیں۔ تیسرا انسان وہ ہے جو پورے معنوں میں اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ جو اللہ کو پہچاننے کے ساتھ خود اپنے کو بھی پوری طرح پہچان چکا ہو۔ ایسا شخص صرف عام حالات ہی میں اللہ سے نہیں ڈرتا بلکہ غیر معمولی حالات میں بھی اللہ کا خوف اس کا نگراں بنا رہتا ہے۔ کسی کی محبت جب اس کو بے خوفی کے راستہ پر لے جانا چاہتی ہے تو وہ فوراً اس کو دیکھ لیتا ہے۔ کسی سے چھپی ہوئی نفرت جب اس کے نفس میں تیرتی ہے اور اس کو بے انصافی پر اکساتی ہے تو وہ چونک پڑتا ہے اور اس سے باخبر ہو کر اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔ ذاتی عزت و وقار کا سوال جب اس کے اندر داخل ہو کر اس کو کسی حق کے اعتراف سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader