Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 241

By Maulana Wahiduddin Khan

رو سکتا ہے تو وہ بلا تاخیر اس کو جان لیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی تمام خامیوں سے آگاہ ہو کر اپنی اصلاح کرتا رہتا ہے۔ اس کا مسلسل احتساب اس کو ایسے مقام پر پہنچا دیتا ہے۔ جہاں وہ اپنے آپ کو انتہائی بے لاگ نظر سے دیکھ سکے۔ بالفاظ دیگر، وہ اپنے کو اس حقیقی نظر سے دیکھنے لگتا ہے جس نظر سے اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔ دین داری دین داری اصل میں اپنی ذات کی سطح پر پردیندار بننے کا نام ہے۔ اپنی انا کو کچلنا اور اپنے اندرون میں خدا کو بسانا وہ چیز ہے جو اسلام کا اصل مطلوب ہے۔ جب آدمی اپنے آپ میں جینے کے بجائے خدا میں جینے لگے۔ جب دنیا کے بجائے آخرت اس کا مقصود بن جائے جب پانے سے زیادہ کھونا اس کو محبوب نظر آتا ہو تو اس نے دین کو پایا، اس نے اپنے خدا کے ساتھ اپنا تعلق قائم کیا۔ آدمی اکثر حالات میں باہر باہر جیتا ہے اس لیے وہ ایسے دین کو بہت جلد قبول کر لیتا ہے جو اس کو اپنے سے باہر کی زندگی میں کوئی مشغلہ دیتا ہو۔ جو دین لاؤڈ اسپیکر کی سطح پر چیخ پکار کا پروگرام دے، جس دین میں آدمی کو جلسے اور جلوس کی سطح پر کارنامے دکھانے کا موقع ملتا ہو۔ جس دین میں سیر و سیاحت کی چاشنی موجود ہو۔ جس دین میں حکمرانوں سے نوک جھونک کرنے کا جواز ہاتھ آتا ہو۔ جو دین بحث ومناظرہ کی دلچسپیاں فراہم کرتا ہو۔ جس دین میں شامیانہ سجانے اور کھانے پینے کی دھوم مچانے کے مواقع ملتے ہوں۔ جس دین میں دوسروں کو گولی کا نشانہ بنا کر اس کی تڑپتی ہوئی لاش دیکھنے کا منظر نصیب ہوتا ہو۔ جس دین میں دوسروں کے پیسہ پر مفت کی لیڈری قائم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page