اللہ اکبر
Urdu book, p. 242
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنے کے مواقع ہاتھ آتے ہوں ۔ دین کی یہ تمام صورتیں دین کو اپنے سے باہر پانے کی صورتیں ہیں۔ اس لیے وہ لوگ بہت جلد ایسے دین کی طرف دوڑ پڑتے جو اپنے آپ کو بچائے ہوئے ہوں اور اپنے سے باہر دین کا ثبوت دے کر دیندار بننا چاہتے ہوں۔ دین اپنے اندر سفر کرنے کا نام ہے۔ دین اپنے آپ کو انانیت کے تخت سے اتارنا ہے۔ دین خود اپنے اندر جھانکنے کا نام ہے نہ کہ دوسروں کا ماہر بننے کا۔ درخت اپنے آپ میں جینا ہے، اسی طرح مومن اپنے آپ میں جیتا ہے۔ درخت اسی وقت درخت بنتا ہے جب کہ اسکی جڑیں زرخیز زمین میں قائم ہو جائیں۔ اسی طرح مومن ایک روحانی درخت ہے جو خدا کی زمین میں اگتا ہے۔ وہ زمین و آسمان سے ایمانی رزق لے کر بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ خدا کی دنیا تک پہنچ جاتا ہے جس کا نام جنت ہے۔ محسوس پرستی قرآن میں خدا کے مقبول بندوں کے بارے میں ارشاد ہوا کہ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں : يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ (2:3) اور غیر مقبول بندوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ صرف دنیا کے ظاہر کو جانتے ہیں: يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا (30:7) ۔ اس سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ شرک کیا ہے اور توحید کیا۔ اگر لفظ بدل کر کہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ شرک نام ہے حقائق کو محسوسات کی سطح پر پہچانے کا، اور توحید نام ہے حقائق کو معنویت کی سطح پر پہچانے کا۔ مشرک انسان صرف ان خداؤں کو جانتا ہے جو محسوس طور پر اس کو اپنی آنکھوں سے نظر آتے ہیں۔ اس کے برعکس، موحد انسان اس خدا کو جان لیتا ہے جو صرف تصور کی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ موحد مومن بالغیب ہوتا ہے اور مشرک مومن بالشهود۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader